MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سنگ دل یوں بھی محبت کا صلہ دیتے ہیں

غزل سنگ دل یوں بھی محبت کا صلہ دیتے ہیں بھول کر عہد وفا رنج وفا دیتے ہیں اپنے دیوانے کو کیا خوب سزا دیتے ہیں دل کے ہر گوشے میں طوفان اٹھا دیتے ہیں مدتیں گزریں ادھر سے کوئی گزرا ہی نہیں روز ہم شمع جلاتے ہیں بجھا دیتے ہیں چال میں رقص نسیم

سنگ دل یوں بھی محبت کا صلہ دیتے ہیں Read More »

فسانہ عشق کا وہ اس طرح دہرائے جاتے ہیں

غزل فسانہ عشق کا وہ اس طرح دہرائے جاتے ہیں زباں خاموش ہے نظروں سے کچھ سمجھائے جاتے ہیں کسی نے بے رخی سمجھا کوئی لطف و کرم سمجھا کچھ اس انداز سے محفل میں وہ شرمائے جاتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو یا رب مری توبہ پہ بن آئے یہ بادل آج گھر گھر

فسانہ عشق کا وہ اس طرح دہرائے جاتے ہیں Read More »

جب سے تو بے نقاب ہے پیارے

غزل جب سے تو بے نقاب ہے پیارے ہر نظر کامیاب ہے پیارے تجھ کو دیکھوں تو کس طرح دیکھوں تو کہ اک آفتاب ہے پیارے میری آنکھوں میں دیکھ کیف جمال کیسی اچھی شراب ہے پیارے جس کو تو نے بنا لیا اپنا وہی دل انتخاب ہے پیارے تیری فرقت میں تیری دوری میں

جب سے تو بے نقاب ہے پیارے Read More »

ناشاد تھا ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں

غزل ناشاد تھا ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں دل عشق میں برباد ہے معلوم نہیں کیوں دیکھا تھا کبھی خواب حسیں میں نے بھی اے دوست اتنا تو مجھے یاد ہے معلوم نہیں کیوں باقی ہے ابھی طول شب ہجر کا عالم دل شام سے ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں برباد ہوا جس کے تغافل

ناشاد تھا ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں Read More »

نگاہ حسن طلب احترام کس کا تھا

غزل نگاہ حسن طلب احترام کس کا تھا کیا جو نظروں سے تو نے سلام کس کا تھا ملا جو روز ازل وہ پیام کس کا تھا ندا جو کان میں آئی وہ نام کس کا تھا جنون شوق سلامت کہ یہ بھی ہوش نہیں میں جس مقام پہ تھا وہ مقام کس کا تھا

نگاہ حسن طلب احترام کس کا تھا Read More »

روز ازل ہو یا ابد دونوں ہیں ہمکنار عشق

غزل روز ازل ہو یا ابد دونوں ہیں ہمکنار عشق عشق ہے راز دار حسن حسن ہے رازدار عشق خوشبوئے حسن و عشق سے مہکے ہوئے ہیں بام و در سارا جہاں بہار حسن سارا جہاں بہار عشق ہوتا ہے کون کامراں معرکۂ حیات میں ان کو ہے اعتماد حسن ہم کو ہے اعتبار عشق

روز ازل ہو یا ابد دونوں ہیں ہمکنار عشق Read More »

روشن ہے زمانے میں افسانہ محبت کا

غزل روشن ہے زمانے میں افسانہ محبت کا خورشید محبت ہے پیمانہ محبت کا اے زاہد ناداں وہ کیا دیر و حرم جانے دل جس کا ازل سے ہو دیوانہ محبت کا رنگین شعاعوں سے معمور ہے ہر ذرہ آباد تجلی ہے ویرانہ محبت کا قطرہ بھی مجھے اکثر دریا نظر آتا ہے جس دن

روشن ہے زمانے میں افسانہ محبت کا Read More »