MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سنتا جو ہے کوئی مرے غنچہ دہن کی بات

غزل سنتا جو ہے کوئی مرے غنچہ دہن کی بات بھاتی نہیں ہے اس کو کسی گل بدن کی بات ہر شخص کی زباں پہ ترا ذکر خیر ہے خالی نہیں ہے تجھ سے کسی مرد و زن کی بات غربت میں اپنا حال کہوں کیا میں دوستو دل ٹوٹتا ہے سنتا ہوں جب میں […]

سنتا جو ہے کوئی مرے غنچہ دہن کی بات Read More »

اے فلک یہ کیا ہوا اپنا یگانہ پھر گیا

غزل اے فلک یہ کیا ہوا اپنا یگانہ پھر گیا تو اکیلا کیا پھرا سارا زمانہ پھر گیا تھی خوشی آنے کی ان کے آتے آتے رہ گئے بخت برگشتہ بجا کر شادیانہ پھر گیا کھاتے تھے انگور پیتے تھے شراب ارغواں ہائے وہ ساقی پھرا کیا آب و دانہ پھر گیا وائے ناکامی رہے

اے فلک یہ کیا ہوا اپنا یگانہ پھر گیا Read More »

گھر میرے آتے آتے وہ دلبر پلٹ گیا

غزل گھر میرے آتے آتے وہ دلبر پلٹ گیا وہ کیا پلٹ گیا کہ مقدر پلٹ گیا ہنگام قتل دیکھنے پائے نہ شکل ہم تلوار مار کر وہ ستم گر پلٹ گیا مجھ سے فقیر کو نہ دیا چین عشق نے تکیہ الٹ گیا کبھی بستر پلٹ گیا اے یار دیکھ کر تری قامت کی

گھر میرے آتے آتے وہ دلبر پلٹ گیا Read More »

تو اگر مجھ سے جدا اے بت ناداں ہوگا

غزل تو اگر مجھ سے جدا اے بت ناداں ہوگا مثل ناقوس یہ دل ہجر میں نالاں ہوگا موجزن جبکہ مرا دیدۂ گریاں ہوگا ایک عالم میں بپا نوح کا طوفاں ہوگا وہ پری میرے جنازے کو جو کاندھا دے گی تختہ تابوت کا اورنگ سلیماں ہوگا گل جدائی میں رہے گا جو یوں ہی

تو اگر مجھ سے جدا اے بت ناداں ہوگا Read More »

مل جائے کوئی گھر جو ترے گھر کے آس پاس

غزل مل جائے کوئی گھر جو ترے گھر کے آس پاس دربان کی طرح میں رہوں در کے آس پاس چاروں طرف ہجوم یہ کیوں حیرتوں کا ہے کیا آئنہ لگے ہیں ترے گھر کے آس پاس یوں مرغ دل ہے آتش فرقت کے درمیان رہتی ہے آگ جیسے سمندر کے آس پاس ہم مست

مل جائے کوئی گھر جو ترے گھر کے آس پاس Read More »

وہ جوش اور نہ وہ باقی ہے ولولہ دل کا

غزل وہ جوش اور نہ وہ باقی ہے ولولہ دل کا خدا ہی جانے کہ کیا ہے معاملہ دل کا تجھے قسم ہے جنوں اس طرح سے لے چلنا نہ پھوٹے خار مغیلاں سے آبلہ دل کا بچاؤ ٹھیس سے اس کو بہت یہ نازک ہے نہ پھوٹے خار مغیلاں سے آبلہ دل کا گئے

وہ جوش اور نہ وہ باقی ہے ولولہ دل کا Read More »

عشق کا کچھ بھی نہ انجام تو اے دل سمجھا

غزل عشق کا کچھ بھی نہ انجام تو اے دل سمجھا پہلے آسان تھا کیا اب جسے مشکل سمجھا بے حجاب ان کو شب وصل جو دیکھا میں نے چاند سے چہرے کو رشک مہ کامل سمجھا دق ہے وہ جان مری عشق کی بیماری سے کہ حکیموں نے بھی جس کو مرض سل سمجھا

عشق کا کچھ بھی نہ انجام تو اے دل سمجھا Read More »

محبت کا کسی کے دل میں اک ارمان پیدا کر

غزل محبت کا کسی کے دل میں اک ارمان پیدا کر خدایا اس سے ملنے کا کوئی سامان پیدا کر جو انگلستان کی سی برتری اے ہند چاہے تو ملا کر اپنے فرقوں کو یہ عز و شان پیدا کر ترے نالوں سے ڈر کر چھوڑ دے صیاد نا ممکن مگر ہاں دیدۂ تر سے

محبت کا کسی کے دل میں اک ارمان پیدا کر Read More »

ہیں مری قبر پہ وہ جلوہ نما میرے بعد

غزل ہیں مری قبر پہ وہ جلوہ نما میرے بعد عشق کا میرے اثر ان پہ ہوا میرے بعد اور کچھ دیر مرے غم کی کہانی سن لو ورنہ پھر کون کرے گا یہ گلہ میرے بعد دیکھ اس گل کو کسی غیر کا دینا نہ پیام میں کہے دیتا ہوں اے باد صبا میرے

ہیں مری قبر پہ وہ جلوہ نما میرے بعد Read More »