MOJ E SUKHAN

ناشاد تھا ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں

غزل

ناشاد تھا ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں
دل عشق میں برباد ہے معلوم نہیں کیوں

دیکھا تھا کبھی خواب حسیں میں نے بھی اے دوست
اتنا تو مجھے یاد ہے معلوم نہیں کیوں

باقی ہے ابھی طول شب ہجر کا عالم
دل شام سے ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں

برباد ہوا جس کے تغافل سے مرا دل
دل میں وہی آباد ہے معلوم نہیں کیوں

ہر چند کہ دل کشتۂ بیداد ہے لیکن
نالہ ہے نہ فریاد ہے معلوم نہیں کیوں

جو سب کے لئے لطف و عنایت کا ہے پیکر
میرے لئے جلاد ہے معلوم نہیں کیوں

میں بھی کہیں آباد تھا یہ یاد نہیں ہے
مجھ میں کوئی آباد ہے معلوم نہیں کیوں

اے دردؔ قفس میں بہت آرام ہے لیکن
گلشن کی فضا یاد ہے معلوم نہیں کیوں

عبدالمجید درد بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم