MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جی رہے ہیں اس جہاں میں ایک لاشے کی طرح

ٖغزل جی رہے ہیں اس جہاں میں ایک لاشے کی طرح لوگ ہم کو دیکھتے ہیں اب تماشے کی طرح یوں محبت کے تقاضے ہم نبھاتے ہی رہے آرزؤں کو اٹھایا ہے جنازے کی طرح دشمنوں سے بڑھ کے اپنوں نے کئے اتنے ستم خوف طاری ہو گیا کانپے ہیں سائے کی طرح اپنی منزل […]

جی رہے ہیں اس جہاں میں ایک لاشے کی طرح Read More »

بھری محفل میں قصہ درد کا کیسے سناؤں گی

غزل بھری محفل میں قصہ درد کا کیسے سناؤں گی بہت روئی ہیں یہ آنکھیں نظر کیسے ملاؤں گی تو سوچوں کی زمیں کے راستے تبدیل کر بیٹھا میں عجلت میں نشان بندگی کیسے مٹاؤں گی مری اس درد کی دنیا پہ مت کر سنگ باری تو بھلا میں بے بسی کے زخم اب کیسے

بھری محفل میں قصہ درد کا کیسے سناؤں گی Read More »

لگ رہا ہے آج میرے دل میں ایسا شور ہے

غزل لگ رہا ہے آج میرے دل میں ایسا شور ہے ہر طرف بادل ہیں کالے اور برپا شور ہے ذہن کے خالی دریچوں سے کوئی جھانکا کہ اب پاؤں رکھتی ہوں اٹھاتی ہوں تو اٹھتا شور ہے غم لگی جب بانٹنے تو دل یہی کہنے لگا راز افشا نہ کرو دنیا میں برپا شور

لگ رہا ہے آج میرے دل میں ایسا شور ہے Read More »

آس کے پر کیف موسم کا اثر کیسا لگا

غزل آس کے پر کیف موسم کا اثر کیسا لگا اس بہار نو شگفتہ کا ثمر کیسا لگا میں نہ کہتی تھی اداسی کے سوا کچھ بھی نہیں آپ نے دیکھا مرا ویران گھر کیسا لگا میں نے اک بت کو تراشا ہے زمانے کے لئے اے ہنر مندو مرا کار ہنر کیسا لگا ظلمتوں

آس کے پر کیف موسم کا اثر کیسا لگا Read More »

نقش پا جب ڈھونڈھتی ہوں میں تمہارا ریت پر

غزل نقش پا جب ڈھونڈھتی ہوں میں تمہارا ریت پر یاد کی کچھ سیپیاں ہیں اب سہارا ریت پر جاں ہماری بچ گئی ہے موسموں کے خوف سے جاتی رت کے ہم مسافر گھر ہمارا ریت پر ساحل ارماں سے اٹھی جب بھی موج بے اماں بیٹھ کر میں دیکھتی ہوں یہ نظارہ ریت پر

نقش پا جب ڈھونڈھتی ہوں میں تمہارا ریت پر Read More »

یہ کس ڈر سے نکالا جا رہا ہے

غزل یہ کس ڈر سے نکالا جا رہا ہے مجھے گھر سے نکالا جا رہا ہے جو منظر کو نمایاں کر رہا تھا وہ منظر سے نکالا جا رہا ہے اسے دیوار سے لایا گیا ہے مجھے در سے نکالا جا رہا ہے چبھا تھا جو مرے پاؤں میں کانٹا مرے سر سے نکالا جا

یہ کس ڈر سے نکالا جا رہا ہے Read More »

زندگی میں نے ہزاروں خواہشوں میں بانٹ دی

غزل زندگی میں نے ہزاروں خواہشوں میں بانٹ دی جیسے اک تصویر ٹوٹے آئنوں میں بانٹ دی رنج و غم خوف و اذیت رتجگے محرومیاں دل کی بستی اب ہزاروں بستیوں میں بانٹ دی مفلسی میں اور کیا دیتے بھلا احباب کو درد کی دولت بچی تھی دوستوں میں بانٹ دی اب طلوع ہو یا

زندگی میں نے ہزاروں خواہشوں میں بانٹ دی Read More »

جس کو بتلایا کہ یہ گھر ہے یہ آنگن ہے مرا

غزل جس کو بتلایا کہ یہ گھر ہے یہ آنگن ہے مرا مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ وہ دشمن ہے مرا مری کٹیا ہی تجھے شہر میں اچھی نہ لگی میں بڑے ناز سے کہتا تھا کہ ساون ہے مرا مجھ کو خیرات نہ دے پر مرا کشکول نہ توڑ آخری فرد ہوں میں

جس کو بتلایا کہ یہ گھر ہے یہ آنگن ہے مرا Read More »

اس کو جب یاد نہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں

غزل اس کو جب یاد نہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں آ شب ہجر کہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں ہجر کی لمبی مسافت سے ابھی لوٹے ہو پاؤں شل ہیں تو یہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں پھر سے جی اٹھتا ہوں جب میری عزا داری کو آسماں اور زمیں بیٹھ کے رو لیتے

اس کو جب یاد نہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں Read More »

خیال اس بات کا دل سے مرے اکثر نہیں جاتا

غزل خیال اس بات کا دل سے مرے اکثر نہیں جاتا میں گھر جانے کی جلدی میں عموماً گھر نہیں جاتا مجھے اک مسئلہ درپیش ہے کہ ہاتھ تو میرے ترے پاؤں تلک جاتے ہیں لیکن سر نہیں جاتا کسی کی بد دعا ہے یا مرے پاؤں نہیں میرے جہاں جانا ضروری ہو وہاں اکثر

خیال اس بات کا دل سے مرے اکثر نہیں جاتا Read More »