MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ شخص مجھے جب سے دکھائی نہیں دیتا

غزل وہ شخص مجھے جب سے دکھائی نہیں دیتا آنکھیں ہیں مگر کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا خیرات میں دے دیتے ہیں رہ گیر کو جتنی اتنی بھی محبت مجھے بھائی نہیں دیتا ان چیختی چلاتی ہوئی گلیوں کا ماتم دانستہ حویلی کو سنائی نہیں دیتا اک عرصہ ہوا دل سے مری بنتی نہیں ہے […]

وہ شخص مجھے جب سے دکھائی نہیں دیتا Read More »

سزا ملی ہے تری مختصر رفاقت کی

غزل سزا ملی ہے تری مختصر رفاقت کی تمام عمر ترے ہجر کی حفاظت کی اتارنے بھی نہ دی شہر کے مکینوں نے تری گلی سے لپٹ کر تھکن مسافت کی تمام عمر جسے میری چپ نے چاہا تھا وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کبھی محبت کی یہی بہت ہے کہ تلوار سے نہیں

سزا ملی ہے تری مختصر رفاقت کی Read More »

مارا اس شرط پہ اب مجھ کو دوبارہ جائے

غزل مارا اس شرط پہ اب مجھ کو دوبارہ جائے نوک نیزہ سے مرا سر نہ اتارا جائے شام سے پہلے کسی ہجر میں مر جائے گا سورج اک بار مرے دل سے گزارا جائے اس کی یہ ضد کہ مرا قتل پس پردہ ہو مری خواہش مجھے بازار میں مارا جائے اس کے آنے

مارا اس شرط پہ اب مجھ کو دوبارہ جائے Read More »

اس واسطے عدو کو گوارا نہیں تھا میں

غزل اس واسطے عدو کو گوارا نہیں تھا میں مارا گیا تھا جنگ میں ہارا نہیں تھا میں مجھ سے ہی مجھ کو وقت نے تفریق کر دیا جو تیرے سامنے تھا وہ سارا نہیں تھا میں میں تیرے چونچلوں پہ انا کیسے بیچتا اے زندگی غلام تمہارا نہیں تھا میں پہلو میں ہو جو

اس واسطے عدو کو گوارا نہیں تھا میں Read More »

ابھی گھر کے مسائل حل کریں گے

غزل ابھی گھر کے مسائل حل کریں گے تری زلفوں کی باتیں کل کریں گے خلاؤں سے پلٹ کر آ گئے تو زمینوں کا سفر پیدل کریں گے تم اپنی مصلحت سنبھال رکھو بغاوت ایک دن پاگل کریں گے مرا کچا مکاں مسمار ہوگا برس کر اور کیا بادل کریں گے تری زلفیں بہت یاد

ابھی گھر کے مسائل حل کریں گے Read More »

زلف کے سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے

غزل زلف کے سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے آنکھ سے بھلا دل کا فاصلہ ہی کتنا ہے سیڑھیاں اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے پتھروں پہ چلتا ہوں کانچ کا بدن لے کر کرچیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے ہے دعا یہی میری بد دعا

زلف کے سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے Read More »

ہوں کیوں نہ منکشف اسرار پست و بالا کے

غزل ہوں کیوں نہ منکشف اسرار پست و بالا کے جمے ہیں پاؤں زمیں پر سر آسماں کو چھوئے جو سر نوشت میں ہے اس کو ہو کے رہنا ہے تو کس بھروسے پہ انسان جد و جہد کرے اب آسماں سے صحیفے نہیں اترتے مگر کھلا ہوا ہے در اجتہاد سب کے لیے زباں

ہوں کیوں نہ منکشف اسرار پست و بالا کے Read More »

تاکید کرو زمزمہ سنجان چمن کو

غزل تاکید کرو زمزمہ سنجان چمن کو بے چین ہوں دل جن سے وہ نغمے نہ الاپو اے اہل وطن! کھاؤ پیو شوق سے لیکن کھیلو نہ کبھی سر سے کبھی منہ سے نہ بولو ہر طائر پراں کے پر و بال کرو قینچ ہر بندۂ آزاد کو شیشے میں اتارو بن جائے روایت نہ

تاکید کرو زمزمہ سنجان چمن کو Read More »

میں بات کون سے پیرایۂ بیاں میں کروں

غزل میں بات کون سے پیرایۂ بیاں میں کروں جو سوچتا ہوں اسے کس زبان میں لکھوں کتر دئے ہیں زمانے نے پنکھ خوابوں کے بھرا ہے ساغر حسرت میں آرزوؤں کا خوں نہیں ہے کشتۂ خوباں کا خوں بہا کوئی اے اہل شوق نہ کھاؤ فریب حرف فسوں کبھی ہے چاند کا ہالہ نقاب

میں بات کون سے پیرایۂ بیاں میں کروں Read More »

وہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا

غزل وہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا ان نگاہوں سے وہی راز عیاں ہے کہ جو تھا وہی رندوں کی سیہ نوشیٔ درد تہہ جام وہی نظارہ سر کوئے مغاں ہے کہ جو تھا ہائے اس کیف نخستیں کی خمار انگیزی تری آنکھوں میں وہی خواب جواں ہے کہ جو تھا وہی ترغیب

وہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا Read More »