غزل
خیال اس بات کا دل سے مرے اکثر نہیں جاتا
میں گھر جانے کی جلدی میں عموماً گھر نہیں جاتا
مجھے اک مسئلہ درپیش ہے کہ ہاتھ تو میرے
ترے پاؤں تلک جاتے ہیں لیکن سر نہیں جاتا
کسی کی بد دعا ہے یا مرے پاؤں نہیں میرے
جہاں جانا ضروری ہو وہاں اکثر نہیں جاتا
وہ میرے ساتھ چلتا ہے کہ میں تنہا نہ ہو جاؤں
مگر اک فاصلہ رکھ کر جہاں پتھر نہیں جاتا
غلط فہمی میں مت رہنا تعلق ٹوٹ جائے تو
تعلق مار دیتا ہے تعلق مر نہیں جاتا
نصیر بلوچ