MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

قضا سے قرض کس مشکل سے لی عمر بقا ہم نے

غزل قضا سے قرض کس مشکل سے لی عمر بقا ہم نے متاع زندگی دے کر کیا یہ قرض ادا ہم نے ہمیں کس خواب سے للچائے گی یہ پر فسوں دنیا کھرچ ڈالا ہے لوح دل سے حرف مدعا ہم نے کریں لب کو نہ آلودہ کبھی حرف شکایت سے شعار اپنا بنایا شیوۂ […]

قضا سے قرض کس مشکل سے لی عمر بقا ہم نے Read More »

نخچیر ہوں میں کشمکش فکر و نظر کا

غزل نخچیر ہوں میں کشمکش فکر و نظر کا حق مجھ سے ادا ہو نہ در و بست ہنر کا مغرب مجھے کھینچے ہے تو روکے مجھے مشرق دھوبی کا وہ کتا ہوں کہ جو گھاٹ نہ گھر کا دبتا ہوں کسی سے نہ دباتا ہوں کسی کو قائل ہوں مساوات بنی نوع بشر کا

نخچیر ہوں میں کشمکش فکر و نظر کا Read More »

فتح کتنی خوبصورت ہے مگر کتنی گراں

غزل فتح کتنی خوبصورت ہے مگر کتنی گراں بارہا رد کی ہے میں نے دعوت وصل بتاں نغمۂ بلبل ہے فریاد وداع فصل گل سعیٔ حاصل در حقیقت ہے متاع رائیگاں زندہ رہنے کے ہیں امکانات کیا آثار کیا کون سی قدریں ہیں باقی کون سی سچائیاں شاعروں کا کام کیا تنسیق اوصاف و لغوت

فتح کتنی خوبصورت ہے مگر کتنی گراں Read More »

پھولی ہے شفق گو کہ ابھی شام نہیں ہے

غزل پھولی ہے شفق گو کہ ابھی شام نہیں ہے ہے دل میں وہ غم جس کا کوئی نام نہیں ہے کس کو نہیں کوتاہیٔ قسمت کی شکایت کس کو گلہ گردش ایام نہیں ہے افلاک کے سائے تلے ایسا بھی ہے کوئی جو صید زبوں مایۂ آلام نہیں ہے چھلکوں کے ہیں انبار مگر

پھولی ہے شفق گو کہ ابھی شام نہیں ہے Read More »

زمیں نژاد ہیں لیکن زماں میں رہتے ہیں

غزل زمیں نژاد ہیں لیکن زماں میں رہتے ہیں مکاں نصیب نہیں لا مکاں میں رہتے ہیں وہ ڈول ڈالیں کسی کار پائیدار کا کیا جو بے ثباتیٔ عمر رواں میں رہتے ہیں ہم ایسے اہل چمن گوشۂ قفس میں بھی حساب خار و خس آشیاں میں رہتے ہیں نہ بود و باش کو پوچھو

زمیں نژاد ہیں لیکن زماں میں رہتے ہیں Read More »

قربِ نس نس میں آگ بھرتا ہے

غزل قربِ نس نس میں آگ بھرتا ہے وصل سے اضطراب بڑھتا ہے میں فقط ایک خواب تھا تیرا خواب کو کون یاد رکھتا ہے آج کی شب شب قیامت ہے دل مرا بے طرح دھڑکتا ہے فقر کیا ہے بہ دوست پیوستن غم کا عرفاں ہے آگہی کیا ہے میں ملاتا ہوں شعر و

قربِ نس نس میں آگ بھرتا ہے Read More »

تمہارے حسن کو تصویر بام کر دیں گے

غزل تمہارے حسن کو تصویر بام کر دیں گے غزل پہ آئے تو مطلع میں کام کر دیں گے مخالفین کا سب انتظام کر دیں گے نہ مانے لوگ تو وہ قتل عام کر دیں گے ہمارے سامنے مت کر گھمنڈ حکومت کا ابھی ذرا میں تجھے بے مقام کر دیں گے بڑھاؤ تیز قدم

تمہارے حسن کو تصویر بام کر دیں گے Read More »

وقار اپنے بزرگوں کا ذرا بھی کم نہیں کرتے

غزل وقار اپنے بزرگوں کا ذرا بھی کم نہیں کرتے کبھی ہم ظالموں کے سامنے سر خم نہیں کرتے تواضع کے لیے کانٹوں کی ان کو پال رکھا ہے سفر میں ہم مسافر آبلوں کا غم نہیں کرتے ہم اہل ظرف خوشیوں میں بھی قابو خود پہ رکھتے ہیں دکھی ہو کر بھی دکھ سے

وقار اپنے بزرگوں کا ذرا بھی کم نہیں کرتے Read More »

دشمنی ہے اسے مجھ سے تو نبھانے آئے

غزل دشمنی ہے اسے مجھ سے تو نبھانے آئے پھول دینے نہ سہی زخم لگانے آئے اپنی گلیوں میں ہمیں اپنا مکاں مل نہ سکا آج ہم لوٹ کے جب اپنے ٹھکانے آئے دعوے داروں سے اسے تھی بہت امید مگر قریۂ غم میں ہمیں خاک اڑانے آئے عیش کے رنگ کسی کو بھی ملے

دشمنی ہے اسے مجھ سے تو نبھانے آئے Read More »

ہم نفس خواب جنوں کی کوئی تعبیر نہ دیکھ

غزل ہم نفس خواب جنوں کی کوئی تعبیر نہ دیکھ رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ تو کسی حسن جہاں سوز کی تصویر نہ دیکھ اپنے گزرے ہوئے حالات کی تفسیر نہ دیکھ حسن تدبیر سے تقدیر بدل دے اپنی جو ہے حالات سے منسوب وہ تقدیر نہ دیکھ تو پرستار

ہم نفس خواب جنوں کی کوئی تعبیر نہ دیکھ Read More »