MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہجر میں گزری ہے اس رات کی باتیں نہ کرو

غزل ہجر میں گزری ہے اس رات کی باتیں نہ کرو آپ تجدید ملاقات کی باتیں نہ کرو دل نے ہر دور میں دنیا سے بغاوت کی ہے دل سے تم رسم و روایات کی باتیں نہ کرو ہمتیں قافلے والوں کی نہ ہوں پست کہیں رہرو گردش حالات کی باتیں نہ کرو چاہئے جوش […]

ہجر میں گزری ہے اس رات کی باتیں نہ کرو Read More »

دامن کی فکر ہے نہ گریباں کی فکر ہے

غزل دامن کی فکر ہے نہ گریباں کی فکر ہے اہل وطن کو فتنۂ دوراں کی فکر ہے گلشن کی فکر ہے نہ بیاباں کی فکر ہے اہل جنوں کو فصل بہاراں کی فکر ہے لوگوں کو اپنی فکر ہے لیکن مجھے ندیم بزم حیات و نظم گلستاں کی فکر ہے ہم مقتل حیات میں

دامن کی فکر ہے نہ گریباں کی فکر ہے Read More »

اپنے وہم و گمان سے نکلا

غزل اپنے وہم و گمان سے نکلا میں اندھیرے مکان سے نکلا بے رخی دیکھ اب زمانے کی مدعا کیوں زبان سے نکلا سمت کا غم نہ تھا سفینے کو یہ الم بادبان سے نکلا دھوپ برسا رہی تھیں تلواریں پھر بھی میں سائبان سے نکلا وقت مہلت نہ دے گا پھر تم کو تیر

اپنے وہم و گمان سے نکلا Read More »

انتشار و خوف ہر اک سر میں ہے

غزل انتشار و خوف ہر اک سر میں ہے عافیت سے کون اپنے گھر میں ہے زندگی پر سب حقیقت کھل چکی تو ابھی تک خواب کے پیکر میں ہے مطمئن انساں کہیں پر بھی نہیں ایک سی حالت زمانے بھر میں ہے رات کی چٹان سے صبحیں تراش خواب کی تعبیر اسی پتھر میں

انتشار و خوف ہر اک سر میں ہے Read More »

میں شب ہجر کیا کروں تنہا

غزل میں شب ہجر کیا کروں تنہا یاد میں تیری گم رہوں تنہا ہیں ادھر گردشیں زمانے کی ہے مقابل ادھر جنوں تنہا کتنے بے نور ہیں یہ ہنگامے میں بھرے شہر میں بھی ہوں تنہا آدمی گھر گیا مسائل میں رہ گئی زیست بے سکوں تنہا وہ تو اس دور کے نہیں انساں مل

میں شب ہجر کیا کروں تنہا Read More »

کیسے رکھیں گے سر پہ کسی کا ادھار ہم

غزل کیسے رکھیں گے سر پہ کسی کا ادھار ہم قرض وفا میں کرتے ہیں سر کا شمار ہم افسوس اسی چمن میں ہوئے بے وقار ہم جس کو کہ چاہتے رہے دیوانہ وار ہم الفاظ مدح خواں تھے قلم تھے بکے ہوئے کیسے تراش لیتے کوئی شاہ کار ہم ملنا ہمارا خاک میں ضائع

کیسے رکھیں گے سر پہ کسی کا ادھار ہم Read More »

   ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی سنجیدہ شاعری      تبصرہ    مظہر برلاس

   ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی سنجیدہ شاعری      تبصرہ    مظہر برلاس زیادہ تر لوگ یہ جانتے ہیں کہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید اردو اور پنجابی کے مزاحیہ شاعر ہیں، بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی سنجیدہ شاعری بھی کسی طور پر کم نہیں۔ حال ہی میں

   ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی سنجیدہ شاعری      تبصرہ    مظہر برلاس Read More »

تعمیرِ سخن تحریر رمضان صابر پنوار کی کتاب پر عرفان خانی کا تبصرہ

دشتِ پر خار کا مسافر  تحریر عرفان خانی  جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ دور تیز ترین ایپس کا ہے جو سو شل میڈیا کے نام سے نئی طرز کی نئی سہولیات ہیں جہاں ان سہولیات نے نۓ لکھنے والوں کوعروض کام, اے آئی جیسی سہولت فراہم کی ہے وہیں پر نۓ لکھنے والوں

تعمیرِ سخن تحریر رمضان صابر پنوار کی کتاب پر عرفان خانی کا تبصرہ Read More »

شہر فصل گل سے چل کر پتھروں کے درمیاں

غزل نصرت فتح علی خان کی آواز نے غزل کو لازوال کر دیا شہر فصل گل سے چل کر پتھروں کے درمیاں زندگی آ جا کبھی ہم بے گھروں کے درمیاں میں ہوں وہ تصویر جس میں حادثے بھرتے ہیں رنگ خال و خط کھلتے ہیں میرے خنجروں کے درمیاں پہلے ہم نے گھر بنا

شہر فصل گل سے چل کر پتھروں کے درمیاں Read More »

میری آنکھوں کو بخشے ہیں آنسو دل کو داغ الم دے گئے ہیں

غزل نصرت فتح علی خان کی آواز نے اس غزل کو بھی روشنی عطا کی میری آنکھوں کو بخشے ہیں آنسو دل کو داغ الم دے گئے ہیں اس عنایت پہ قربان جاؤں پیار مانگا تھا غم دے گئے ہیں دینے آئے تھے ہم کو تسلی وہ تسلی تو کیا ہم کو دیتے توڑ کر

میری آنکھوں کو بخشے ہیں آنسو دل کو داغ الم دے گئے ہیں Read More »