MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زمیں نژاد ہیں لیکن زماں میں رہتے ہیں

غزل

زمیں نژاد ہیں لیکن زماں میں رہتے ہیں
مکاں نصیب نہیں لا مکاں میں رہتے ہیں

وہ ڈول ڈالیں کسی کار پائیدار کا کیا
جو بے ثباتیٔ عمر رواں میں رہتے ہیں

ہم ایسے اہل چمن گوشۂ قفس میں بھی
حساب خار و خس آشیاں میں رہتے ہیں

نہ بود و باش کو پوچھو کہ ہم فقیر منش
سخن کے معبد بے سائباں میں رہتے ہیں

کہاں تلاش کرو گے ہمیں کہ ہم تو مدام
حضوریٔ دل بے خانماں میں رہتے ہیں

نشے کی لہر میں خم خم لنڈھا کے آب حیات
سراب زندگیٔ جاوداں میں رہتے ہیں

نئی محبتیں خالدؔ پرانی دوستیاں
عذاب کشمکش بے اماں میں رہتے ہیں

عبدالعزیز خالد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم