MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں شب ہجر کیا کروں تنہا

غزل

میں شب ہجر کیا کروں تنہا
یاد میں تیری گم رہوں تنہا

ہیں ادھر گردشیں زمانے کی
ہے مقابل ادھر جنوں تنہا

کتنے بے نور ہیں یہ ہنگامے
میں بھرے شہر میں بھی ہوں تنہا

آدمی گھر گیا مسائل میں
رہ گئی زیست بے سکوں تنہا

وہ تو اس دور کے نہیں انساں
مل گیا ہے جنہیں سکوں تنہا

ہم سفر جب نیازؔ اندھیرے ہیں
شمع گھبرا رہی ہے کیوں تنہا

عبدالمتین نیاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم