MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگا

غزل نصرت فتح علی خان کی آواز نے غزل کو چار چاند لگا دیے سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگا اب انتظار کے ماروں کا حال کیا ہوگا تری نگاہ نے ظالم کبھی ہے یہ سوچا تری نگاہ کے ماروں کا حال کیا ہوگا مقابلہ ہے ترے حسن کا بہاروں سے نہ جانے […]

سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگا Read More »

نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے

غزل نصرت فتح علی خان کی آواز کے خزانے سے لبریز غزل   نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے کہو کوئی کیسے محبت چھپا لے کرے کوئی کیا گر وہ آئیں یکایک نگاہوں کو روکے کہ دل کو سنبھالے چمن والے بجلی سے بولے نہ چالے غریبوں کے گھر بے خطا پھونک ڈالے

نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے Read More »

مست نظروں سے اللہ بچائے مہ جمالوں سے اللہ بچائے

غزل نصرت فتح علی خان کی آواز سے مزین خوبصورت غزل   مست نظروں سے اللہ بچائے مہ جمالوں سے اللہ بچائے ہر بلا سر پہ آ جائے میری حسن والوں سے اللہ بچائے ان کی معصومیت پر نہ جانا ان کے دھوکے میں ہرگز نہ آنا لوٹ لیتے ہیں یہ مسکرا کر ان کی

مست نظروں سے اللہ بچائے مہ جمالوں سے اللہ بچائے Read More »

ان کی طرف سے ترک ملاقات ہو گئی

غزل نصرت فتح علی خان نے اس غزل کو اپنی آواز کے جادو سے زندگی عطا کر دی   ان کی طرف سے ترک ملاقات ہو گئی ہم جس سے ڈر رہے تھے وہی بات ہو گئی آئینہ دیکھنے میں نئی بات ہو گئی ان سے ہی آج ان کی ملاقات ہو گئی طے ان

ان کی طرف سے ترک ملاقات ہو گئی Read More »

آنکھ اٹھی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں

غزل نصرت فتح علی خان کی آواز کو زیب تن کرنے والی شاہکار غزل آنکھ اٹھی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں ان کی نظروں نے کچھ ایسا جادو کیا لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں ساتھ اپنا وفا میں نہ چھوٹے کبھی پیار کی ڈور بندھ کر نہ

آنکھ اٹھی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں Read More »

ایسا بننا سنورنا مبارک تمہیں کم سے کم اتنا کہنا ہمارا کرو

غزل نصرت فتح علی خان نے اس غزل کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا   ایسا بننا سنورنا مبارک تمہیں کم سے کم اتنا کہنا ہمارا کرو چاند شرمائے گا چاندنی رات میں یوں نہ زلفوں کو اپنی سنوارا کرو یہ تبسم یہ عارض یہ روشن جبیں یہ ادا یہ نگاہیں یہ زلفیں حسیں آئنے

ایسا بننا سنورنا مبارک تمہیں کم سے کم اتنا کہنا ہمارا کرو Read More »

ہے کہاں کا ارادہ تمہارا صنم کس کے دل کو اداؤں سے بہلاؤ گے

غزل استاد نصرت فتح علی خان نے اس غزل کو سر ساز کی مالا میں سجا کر اپنی آواز سے معطر کر دیا   ہے کہاں کا ارادہ تمہارا صنم کس کے دل کو اداؤں سے بہلاؤ گے سچ بتاؤ کہ اس چاندنی رات میں کس سے وعدہ کیا ہے کہاں جاؤ گے دیکھو اچھا

ہے کہاں کا ارادہ تمہارا صنم کس کے دل کو اداؤں سے بہلاؤ گے Read More »

کہنا غلط غلط تو چھپانا سہی سہی

غزل نصرت فتح علی خان نے اس غزل کو اپنی آواز دے کر لازوال کر دیا کہنا غلط غلط تو چھپانا سہی سہی قاصد کہا جو اس نے بتانا سہی سہی یہ صبح صبح چہرے کی رنگت اڑی ہوئی کل رات تم کہاں تھے بتانا سہی سہی دل لے کے میرا ہاتھ میں کہتے ہیں

کہنا غلط غلط تو چھپانا سہی سہی Read More »

اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں

غزل استاد نصرت فتح علی خان نے اس غزل کو اپنی آواز دے کر لازوال کر دیا اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں عشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیں ایک دن آپ کی برہم نگہی دیکھ چکے روز اک تازہ قیامت ہو ضروری تو نہیں میری شمعوں کو

اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں Read More »

سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیا

غزل نصرت فتح علی خان نے اس غزل کو اپنی آواز دے کر لازوال کر دیا   سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیا بات تو صرف اک رات کی تھی مگر انتظار آپ کا عمر بھر کر لیا عشق میں الجھنیں پہلے ہی کم نہ تھیں اور پیدا نیا

سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیا Read More »