MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیسے رکھیں گے سر پہ کسی کا ادھار ہم

غزل

کیسے رکھیں گے سر پہ کسی کا ادھار ہم
قرض وفا میں کرتے ہیں سر کا شمار ہم

افسوس اسی چمن میں ہوئے بے وقار ہم
جس کو کہ چاہتے رہے دیوانہ وار ہم

الفاظ مدح خواں تھے قلم تھے بکے ہوئے
کیسے تراش لیتے کوئی شاہ کار ہم

ملنا ہمارا خاک میں ضائع نہ جائے گا
دے جائیں گے چمن کو شعور بہار ہم

کوئی سپر بچا نہ سکے گی حضور کو
تلوار سے سخن کی کریں گے جو وار ہم

اے زندگی نہ ہم سے چھپا راز زندگی
ہر سانس میں ہیں تیرے ہی آئینہ دار ہم

ڈالیں اب ایک اور روایت کی داغ بیل
دشمن پہ اے نیازؔ کریں اعتبار ہم

عبدالمتین نیاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم