MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کہنا غلط غلط تو چھپانا سہی سہی

غزل

نصرت فتح علی خان نے اس غزل کو اپنی آواز دے کر لازوال کر دیا

کہنا غلط غلط تو چھپانا سہی سہی
قاصد کہا جو اس نے بتانا سہی سہی

یہ صبح صبح چہرے کی رنگت اڑی ہوئی
کل رات تم کہاں تھے بتانا سہی سہی

دل لے کے میرا ہاتھ میں کہتے ہیں مجھ سے وہ
کیا لو گے اس کا دام بتانا سہی سہی

آنکھیں ملاؤ غیر سے دو ہم کو جام مے
ساقی تمہیں قسم ہے پلانا سہی سہی

اے مے فروش بھیڑ ہے تیری دکان پر
گاہک ہیں ہم بھی مال دکھانا سہی سہی

ساجدؔ تو جان و دل سے فقط آپ کا ہے بس
کیا آپ بھی ہیں اس کے بتانا سہی سہی

ساجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم