غزل
نصرت فتح علی خان نے اس غزل کو اپنی آواز دے کر لازوال کر دیا
کہنا غلط غلط تو چھپانا سہی سہی
قاصد کہا جو اس نے بتانا سہی سہی
یہ صبح صبح چہرے کی رنگت اڑی ہوئی
کل رات تم کہاں تھے بتانا سہی سہی
دل لے کے میرا ہاتھ میں کہتے ہیں مجھ سے وہ
کیا لو گے اس کا دام بتانا سہی سہی
آنکھیں ملاؤ غیر سے دو ہم کو جام مے
ساقی تمہیں قسم ہے پلانا سہی سہی
اے مے فروش بھیڑ ہے تیری دکان پر
گاہک ہیں ہم بھی مال دکھانا سہی سہی
ساجدؔ تو جان و دل سے فقط آپ کا ہے بس
کیا آپ بھی ہیں اس کے بتانا سہی سہی
ساجد