اگرچہ دل تھا غموں سے فگار اور رہا
غزل اگرچہ دل تھا غموں سے فگار اور رہا مگر گلہ تھا زبس ناگوار اور رہا کسی کو راہ مرے گھر کی یاد ہی نہ رہی میں انتظار میں تھا بے قرار اور رہا زمانہ کھائے گا قسمیں ہماری عظمت کی یہ دور غم جو ذرا سازگار اور رہا ہوا ہے کب سفر زندگی تمام […]
اگرچہ دل تھا غموں سے فگار اور رہا Read More »