MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اگرچہ دل تھا غموں سے فگار اور رہا

غزل اگرچہ دل تھا غموں سے فگار اور رہا مگر گلہ تھا زبس ناگوار اور رہا کسی کو راہ مرے گھر کی یاد ہی نہ رہی میں انتظار میں تھا بے قرار اور رہا زمانہ کھائے گا قسمیں ہماری عظمت کی یہ دور غم جو ذرا سازگار اور رہا ہوا ہے کب سفر زندگی تمام […]

اگرچہ دل تھا غموں سے فگار اور رہا Read More »

ضبط کے با وصف دل کیوں بے ادب ہونے لگا

غزل   ضبط کے با وصف دل کیوں بے ادب ہونے لگا کیوں نگاہوں سے عیاں رنگ طلب ہونے لگا کیا ہوئی میری وفاؤں کی عقیدت کیا ہوئی بے وفائی کا گلہ کیوں زیر لب ہونے لگا بے قراری دل کی فطرت ضبط غم میری سرشت کشمکش کا تازہ ساماں روز و شب ہونے لگا

ضبط کے با وصف دل کیوں بے ادب ہونے لگا Read More »

جب سود و زیاں کی فکر نہیں پھر سود و زیاں کا نام بھی کیا

غزل جب سود و زیاں کی فکر نہیں پھر سود و زیاں کا نام بھی کیا خوف ستم صیاد بھی کیوں اندیشۂ دانہ و دام بھی کیا کیا علم تھا بے جا خدشے بھی ہمراہ حوادث آئیں گے ٹوٹیں گے جو دل پر صدمے تو چھیڑیں گے ہمیں اوہام بھی کیا پیغام اب ان کے

جب سود و زیاں کی فکر نہیں پھر سود و زیاں کا نام بھی کیا Read More »

نظر میں حسن کا طوفاں سما نہیں سکتا

غزل نظر میں حسن کا طوفاں سما نہیں سکتا میں اپنے خواب سے دامن چھڑا نہیں سکتا نگار رقص میں ہے اور بہار زوروں پر مگر غریب کا دل مسکرا نہیں سکتا مجھے ہے اپنے مقدر پہ اتنی ہی قدرت بگاڑ سکتا ہوں اس کو بنا نہیں سکتا بہت عزیز ہے مجھ کو متاع عجز

نظر میں حسن کا طوفاں سما نہیں سکتا Read More »

اظہار غم کو شوق نے آساں بنا لیا

غزل اظہار غم کو شوق نے آساں بنا لیا ضبط سخن کو بات کا عنواں بنا لیا ہم نے بہار رفتہ کی تصویر کے لیے شاخ مژہ کو شاخ‌ گل افشاں بنا لیا دیکھا زمانۂ گزراں کو اسی نے خوب آنکھوں کو جس نے روزن زنداں بنا لیا ژولیدگی کہ میرے خیالوں کی جان تھی

اظہار غم کو شوق نے آساں بنا لیا Read More »

خاموش کلی سارے گلستاں کی زباں ہے

غزل خاموش کلی سارے گلستاں کی زباں ہے یہ طرز سخن آبروئے خوش سخناں ہے جو بات کہ خود میرے تکلم پہ گراں ہے وہ تیری سماعت کے تو قابل ہی کہاں ہے ہر ذرہ پہ ہے منزل محبوب کا دھوکا پہنچے کوئی اس بزم تک ان کا ہی کہاں ہے انسان نے اسرار جہاں

خاموش کلی سارے گلستاں کی زباں ہے Read More »

کئی بار ان کی محفل میں ہمارا ذکر خیر آیا

غزل کئی بار ان کی محفل میں ہمارا ذکر خیر آیا مگر اظہار لطف دوست داری کے بغیر آیا سمجھتا ہوں یہ سنگ راہ کعبہ ہے سمجھتا ہوں مگر شام آئی اور میں لوٹ کر پھر سوئے دیر آیا جمال دوست سے پر نور ہے دنیائے دل میری خیال دوست اس گھر میں تکلف کے

کئی بار ان کی محفل میں ہمارا ذکر خیر آیا Read More »

کچھ ایسا تھا گمرہی کا سایا

غزل کچھ ایسا تھا گمرہی کا سایا اپنا ہی پتا نہ ہم نے پایا دل کس کے جمال میں ہوا گم اکثر یہ خیال ہی نہ آیا ہم تو ترے ذکر کا ہوئے جزو تو نے ہمیں کس طرح بھلایا اے دوست تری نظر سے میرا ایوان نگاہ جگ مسکایا خورشید اسی کو ہم نے

کچھ ایسا تھا گمرہی کا سایا Read More »

کیا کہیں ملتا ہے کیا خوابوں میں

غزل کیا کہیں ملتا ہے کیا خوابوں میں دل گھرا رہتا ہے مہتابوں میں ہر تمنائے سکون ساحل الجھی الجھی رہی سیلابوں میں دل انساں کی سیاہی توبہ ظلمتیں بس گئیں مہتابوں میں آپ کے فیض سے تنویریں ہیں کعبۂ عشق کی محرابوں میں اپنا ہر خواب تھا اک موج سرور یوں ہوئی عمر بسر

کیا کہیں ملتا ہے کیا خوابوں میں Read More »

اپنی ناکام تمناؤں کا ماتم نہ کرو

غزل اپنی ناکام تمناؤں کا ماتم نہ کرو تھم گیا دور مئے ناب تو کچھ غم نہ کرو اور بھی کتنے طریقے ہیں بیان غم کے مسکراتی ہوئی آنکھوں کو تو پر نم نہ کرو ہاں یہ شمشیر حوادث ہو تو کچھ بات بھی ہے گردنیں طوق غلامی کے لیے خم نہ کرو تم تو

اپنی ناکام تمناؤں کا ماتم نہ کرو Read More »