MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

غیروں کے ساتھ بیٹھے ہیں اس انجمن میں ہم

غزل   غیروں کے ساتھ بیٹھے ہیں اس انجمن میں ہم کانٹوں سے واسطہ ہے مگر ہیں چمن میں ہم سمجھو نہ داغ دامن دل میں یہ پھول ہیں اب ہیں قفس نصیب کبھی تھے چمن میں ہم رسوا نہ زخم تیر نظر ہو یہ خوف ہے ہاتھوں سے دل چھپائے ہوئے ہیں کفن میں […]

غیروں کے ساتھ بیٹھے ہیں اس انجمن میں ہم Read More »

اے کاش نہ ہوتا یہ اثر آہ رسا میں

غزل اے کاش نہ ہوتا یہ اثر آہ رسا میں اک برہمی آتی ہے نظر زلف دوتا میں داخل جو ہوا حلقہ تسلیم و رضا میں پاتا نہیں وہ فرق سزا اور جزا میں اس انجمن ناز میں کیا کام قضا کا ہوں سیکڑوں انداز جہاں ایک ادا میں معراج محبت میں ہوئیں لازم و

اے کاش نہ ہوتا یہ اثر آہ رسا میں Read More »

مزا آتا کسی صورت اگر ترک وفا ہوتا

غزل مزا آتا کسی صورت اگر ترک وفا ہوتا تمہاری طرح میں بھی بے وفا ہوتا تو کیا ہوتا مصیبت ہو گئی آخر تمنا کی گرفتاری اگر بے مدعا ہوتا تو بندہ بھی خدا ہوتا یہ شان بے نیازی ہے خدا معلوم ہوتا ہے خدا معلوم کیا ہوتا اگر وہ بت خدا ہوتا نہ رہتا

مزا آتا کسی صورت اگر ترک وفا ہوتا Read More »

بے وجہ نہیں ان کا بے خود کو بلانا ہے

غزل بے وجہ نہیں ان کا بے خود کو بلانا ہے آئینۂ حیرت سے محفل کو سجانا ہے یار غم ہستی کا ہے تذکرہ لا حاصل مجبور کا جینا ہی اک بار اٹھانا ہے مجھ سے جو سر محفل تم آنکھ چراتے ہو کیا راز محبت کو افسانہ بنانا ہے حالت کے تغیر پر ہو

بے وجہ نہیں ان کا بے خود کو بلانا ہے Read More »

ہجر کی شب زلف برہم کا خیال آتا رہا

غزل ہجر کی شب زلف برہم کا خیال آتا رہا اک نہ اک ہر دن مرے سر پر وبال آتا رہا شکر ہے تاریک دل میں روشنی کے واسطے گو تصور میں سہی اس کا جمال آتا رہا ہے کرم اس کا کہ ہم سے بے بصر کے واسطے عالم امثال میں وہ بے مثال

ہجر کی شب زلف برہم کا خیال آتا رہا Read More »

ہم نشینوں میں ہمارا ہم نوا کوئی نہیں

غزل   ہم نشینوں میں ہمارا ہم نوا کوئی نہیں آشنا تو ہیں بہت درد آشنا کوئی نہیں اے مسیحا موت سے کر زندگانی کا علاج ہو رہے وہ غیر کے اب آسرا کوئی نہیں بت کدے سے چھوٹ کر ایسا ہوئے بے خانماں جیسے زیر آسماں میرا خدا کوئی نہیں خود نمائی میں بھی

ہم نشینوں میں ہمارا ہم نوا کوئی نہیں Read More »

غیر کے ساتھ کبھی ذکر ہمارا نہ کریں

غزل غیر کے ساتھ کبھی ذکر ہمارا نہ کریں ہم کو بد نام کریں عشق کو رسوا نہ کریں دل یہ کہتا ہے مقدر ہے پریشاں رہنا عقل کہتی ہے کہ ہم زلف کا سودا نہ کریں کیا ضرورت ہے بلا ان کی سنوارے گیسو اک نظر دیکھ لیں جس کو اسے دیوانہ کریں کیا

غیر کے ساتھ کبھی ذکر ہمارا نہ کریں Read More »

شکایت بے وفائی کی نہ کر دنیائے فانی میں

غزل شکایت بے وفائی کی نہ کر دنیائے فانی میں وفا کا نام باقی ہے فقط قصے کہانی میں جو مرنا تھا تو آخر کیوں نہ موت آئی جوانی میں دل زندہ کو بیٹھا رو رہا ہوں زندگانی میں کسی کے گوشہ ابرو سے کیا ارشاد ہوتا ہے کوئی کچھ عرض کرتا ہے زبان بے

شکایت بے وفائی کی نہ کر دنیائے فانی میں Read More »

محبت غیر فانی ہے مرض ہے لا دوا میرا

غزل محبت غیر فانی ہے مرض ہے لا دوا میرا خدا کی ذات باقی ہے محبت ہے خدا میرا نہ جیتے جی ہوا ہرگز وفا نا آشنا میرا پر اس کی داستاں بن کر رہا ذکر وفا میرا جفا کا تیری طالب ہوں وفا ہے مدعا میرا یقین نا مرادی پر بھی دیکھو حوصلہ میرا

محبت غیر فانی ہے مرض ہے لا دوا میرا Read More »

کسی سے عشق کرنا اور اس کو با خبر کرنا

غزل کسی سے عشق کرنا اور اس کو با خبر کرنا ہے اپنے مطلب دشوار کو دشوار تر کرنا نہیں ہے موت پر کچھ اختیار اے وائے مجبوری امید مرگ میں مشکل بسر کرنا مگر کرنا جو پر تھے مایۂ پرواز میں وجہ گرانباری غرور بال و پر کرنا تو مجھ کو دیکھ کر کرنا

کسی سے عشق کرنا اور اس کو با خبر کرنا Read More »