MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اسی صورت سے تسکین دل ناشاد کرتے ہیں

غزل

اسی صورت سے تسکین دل ناشاد کرتے ہیں
ابھی تک یاد آتے ہو ابھی تک یاد کرتے ہیں

تباہی پر ہماری شکوۂ صیاد کرتے ہیں
چمن میں ہیں کچھ ایسے بھی جو ہم کو یاد کرتے ہیں

محبت نام ہے اس کا تعلق نام ہے اس کا
نہ ہم آزاد ہوتے ہیں نہ وہ آزاد کرتے ہیں

وفا کا نام جب اٹھ جائے گا بے درد دنیا سے
وہ روئیں گے بہت ہم کو جو اب برباد کرتے ہیں

زمانہ سے نرالا ہے کرم صیاد و گلچیں کا
جلا کر آشیاں کہتے ہیں اب آزاد کرتے ہیں

قفس ہی اب نشیمن ہے قفس ہی صحن‌ گلشن ہے
اسیروں سے کہو کیوں منت صیاد کرتے ہیں

سمجھ رکھا ہے بازیچہ انہوں نے دل کی دنیا کو
کبھی آباد کرتے ہیں کبھی برباد کرتے ہیں

کبھی اپنا سمجھ کر جن کو سینے سے لگایا تھا
عجب عالم ہے عارفؔ وہ ہمیں برباد کرتے ہیں

عارف نقشبندی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم