MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دیکھا تھا کس نظر سے تم نے ہنسی ہنسی میں

غزل

دیکھا تھا کس نظر سے تم نے ہنسی ہنسی میں
اک درد مستقل ہے اب میری زندگی میں

کعبہ بھی بت کدہ بھی ہے راہ بندگی میں
یہ منزلیں ہیں کیسی دشوار عاشقی میں

اے دوست یاد ان کی اب تک رلا رہی ہے
دو دن جو مل گئے تھے ہنسنے کو زندگی میں

اک بات پر ہماری الجھن میں پڑ گئے تم
دنیا نہ جانے کیا کیا کرتی ہے دوستی میں

جب ہوش میں رہا میں چھپتے رہے وہ مجھ سے
پردے ہٹا دیے سب دیکھا جو بے خودی میں

اے میری شام فرقت یوں دل نہیں بہلتا
کچھ اور روشنی کر تاروں کی روشنی میں

منزل پہ مجھ کو لا کر دامن جھٹک رہے ہو
یاد آئے گا مجھے یہ احسان زندگی میں

دور خزاں سے اب تو بہلا رہا ہوں دل کو
کانٹوں میں پھنس گیا ہوں پھولوں کی دوستی میں

تو ان کے سامنے ہو وہ تیرے سامنے ہوں
ایسا بھی ایک سجدہ عارفؔ ہو بے خودی میں

عارف نقشبندی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم