MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ایسے ترے خیال میں ڈوبا ہوا تھا میں

ایسے ترے خیال میں ڈوبا ہوا تھا میں اپنے ہی آس پاس میں بکھرا ہوا تھا میں کس نے کہا ہے تم سے کہ منزل کی چاہ تھی منزل کے تو قریب سے پلٹا ہوا تھا میں بکھری ہوئیں تھیں کرچیاں کمرے میں جا بجا کل آئینےکے سامنے ٹوٹا ہوا تھا میں تم جس جگہ […]

ایسے ترے خیال میں ڈوبا ہوا تھا میں Read More »

اس نے رکھی سنبھال کر دنیا

اس نے رکھی سنبھال کر دنیا میں نے رکھ دی اچھال کر دنیا ہاتھ اس کے بھی کچھ نہیں آیا جس نے دیکھی کھنگال کر دنیا رفتہ رفتہ یہ جڑ پکڑ لے گی دل سے رکھو نکال کر دنیا آگئے ہوش اب ٹھکانے پر اور رکھو سنبھال کر دنیا اس نے پوچھا کہ کیا چھپایا

اس نے رکھی سنبھال کر دنیا Read More »

نظم: "سرخ آنکھوں سے دیکھے گئے خواب”

نظم: "سرخ آنکھوں سے دیکھے گئے خواب” سرخ آنکھوں سے دیکھے گئے خواب کی سننے والو کہو، کوئی تعبیر ہے؟ ایک گھر میں بنیں ان گنت سرحدیں ایک زنداں میں گونجی کئی حسرتیں ایک تالہ لبوں پہ لگائے ہوئے ہاتھ کاٹے ہوئے، سر جھکائے ہوئے منطقوں کے نشاں سب مٹائے ہوئے اور تاریخ اپنی بھلائے

نظم: "سرخ آنکھوں سے دیکھے گئے خواب” Read More »

ہوا جب نفس ہی نادان اپنا

ہوا جب نفس ہی نادان اپنا تو سارا جگ بنا زندان اپنا غلاظت سے بھرا ہے ذہن لیکن صفائی نصف ہے ایمان اپنا زمانے میں بنی ذلت مقدر مگر بدلا نہیں رجحان اپنا یہی ہم کو گماں ہے کہ فلک سے کُمک بھیجے گا وہ رحمان اپنا خلیلِ رب کی سنت تو یہی ہے عزیزِ

ہوا جب نفس ہی نادان اپنا Read More »

میں اکثر دل کی بے جا  خواہشوں کی زد میں رہتی ہوں

میں اکثر دل کی بے جا  خواہشوں کی زد میں رہتی ہوں مگر میں خاندانی ہوں سو اپنی حد میں رہتی ہوں مرے اطراف میں جو لوگ ہیں سب مجھ سے کہتے ہیں بلند قامت ہوں لیکن پھر بھی اپنے قد میں رہتی ہوں میں ہوں آدم کی پسلی سے یقینا ہے کجی مجھ میں

میں اکثر دل کی بے جا  خواہشوں کی زد میں رہتی ہوں Read More »

جب تک نہیں جُڑجاتا فَہم سے کوئی رشتہ

جب تک نہیں جُڑجاتا فَہم سے کوئی رشتہ توڑیں گے نہ قرطاس و قلم سے کوئی رشتہ ایسے ہی نہیں جھوٹ سے رکھتے ہیں عداوت رکھا ہوا ہے سچ کے عَلَم سے کوئی رشتہ دنیا تری مرضی سے تو قائم نہیں ہوتا بنتا ہے خدا کے ہی کرم سے کوئی رشتہ ہے رات کی تاریکی

جب تک نہیں جُڑجاتا فَہم سے کوئی رشتہ Read More »

دیکھ رہی ہوں کیسے لوگ

دیکھ رہی ہوں کیسے لوگ اونچے قد کے بونے لوگ کون سی کرنی کر لیں گے اندھے، بہرے، گونگے لوگ نام بڑا ہے ویسے ان کا اندر سے ہیں چھوٹے لوگ اپنا اپنا جھوٹ لیے سارے سچے سچے لوگ تشؔنہ تم نے دیکھے ہیں کالے دل کے گورے لوگ حمیرہ گل تشنہ

دیکھ رہی ہوں کیسے لوگ Read More »

گھرانوں سے محبت کی فضائیں چھین لیتے ہیں

گھرانوں سے محبت کی فضائیں چھین لیتے ہیں ستمگر پھول سے بچوں کی مائیں چھین لیتے ہیں ہمارے بادشاہوں کو ہے نفرت شورِ سے اتنی کہ مظلوموں سے رونے کی صدائیں چھین لیتے ہیں کہیں ہیں کفر کے فتوے کہیں شور ملامت ہے خدا جب لوگ بن جائیں جزائیں چھین لیتے ہیں الٰہی تیری بستی

گھرانوں سے محبت کی فضائیں چھین لیتے ہیں Read More »

بن پانی کی مچھلی کا سا حال کروں، دھمال کروں

بن پانی کی مچھلی کا سا حال کروں، دھمال کروں عشق کروں اور ساگر میں بھونچال کروں، دھمال کروں رنگ بکھیروں دھڑکن کو سر تال کروں، دھمال کروں رقص کروں اور پیروں کو بے حال کروں، دھمال کروں دیوانہ اک خاک اڑاتا دشت میں جب جب آئے تو کھول کے بانہیں اس کا استقبال کروں،

بن پانی کی مچھلی کا سا حال کروں، دھمال کروں Read More »