MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہونٹ – Hount

افسانہ ہونٹ تحریر ۔ محمداشرف عامر ایک جوان ، خوبرو ، جاذِبِ نظر ، زہین ، محنتی ، خوددار اور محاسنِ اخلاق کا پیکر ہونے کے ساتھ ایک معزز ، امیر اور کھاتے پیتے گھرانے کا اکلوتا چشم و چراغ تھا ، اِسی وجہ سے اُس کا بچپن انتہائی ناز و نعم میں گزرا ، […]

ہونٹ – Hount Read More »

کمی کمین افسانہ

افسانہ کمی کمین تحریر ۔ محمداشرف سرمد ایک چھوٹے سے گاؤں کا باسی تھا اُس پر ربِ کریم کی یہ خصوصی عنایت تھی کہ اُس کے والدین حیات تھے اور اُسے اپنے پورے وجود سے اور بے پناہ چاہتے تھے اُنہوں نے اُسے میعاری تعلیم کی غرض سے شہر بھیجا تاکہ وہ پڑھ لکھ کر

کمی کمین افسانہ Read More »

غموں کی تال پہ خوابوں کے دل تھرکتے رہے

غموں کی تال پہ خوابوں کے دل تھرکتے رہےہم اک خوشی کے لیے اپنے پیر پڑتے رہے بچھا کے بسترِ امید ہم دریدہ بدنخود اپنے آپ سے بے نام جنگ لڑتے رہے پرو کے ضبط کے دھاگے میں سسکیاں آنسوہم اپنی بانہوں میں رنج و الم جکڑتے رہے سجا کے سینے پہ ہم اعتبار کے

غموں کی تال پہ خوابوں کے دل تھرکتے رہے Read More »

چار غزلوں کے علاوہ کوئی جاگیر نہیں

Chaar Ghazloo kay ilawa koi Jageer Nahi غزل چار غزلوں کے علاوہ کوئی جاگیر نہیںیہ خوشی ایسی ہے جس کی کوئی تفسیر نہیں لے ہی آؤں گا ہتھیلی کی لکیروں میں تجھےمصلحت نام کی اب پیروں میں زنجیر نہیں اب تو رکھنے لگے اس دل کا مرے زخم خیالیعنی اب سامنے تو ہے تری تصویر

چار غزلوں کے علاوہ کوئی جاگیر نہیں Read More »

ہے داؤ پہ ہر خواب کی تعبیر خدا خیر

Hay Daoo pa Her Khowab ki tabeer Khuda Khair غزل ہے داؤ پہ ہر خواب کی تعبیر خدا خیرپھر آج ہوئی سونے میں تاخیر خدا خیر ہیں میرے مقابل مری تنہائی کے آنسواور پیروں میں ہے وعدے کی زنجیر خدا خیر میں دل کی کہانی کا وہ کردار ہوں جس پرہنستے ہوئے رو دیتی ہے

ہے داؤ پہ ہر خواب کی تعبیر خدا خیر Read More »

چلتے چلتے تو میں تھک جاوں گی

چلتے چلتے تو میں تھک جاوں گیاور پھر راہ بھٹک جاوں گی ہیں بہت مست تماری آنکھیںآج تو میں بھی بہک جاوں گی رات کی رانی کی صورت اک شبتیرے آنگن میں مہک جاوں گی آج جانے کا ارادہ نہ کروبن کے میں یاد چپک جاوں گی میں تیرے دل کے کسی گوشے میںاوڑھ کے

چلتے چلتے تو میں تھک جاوں گی Read More »

چراغ آکے جلاؤ بہت اندھیرا ہے

چراغ آکے جلاؤ بہت اندھیرا ہےہمیں تو تیرہ شبی میں سہارا تیرا ہے جو خواب بھیگے تمارے وصال ساون میںپڑے ہیں خشک کہ اب ہجر میں بسیرا ہے کمال حسن تکلم سے جان تک لوٹےہنر میں طاق ہے فنکار وہ لٹیرا ہے گزر ہی جائے گی یوں شب بھی ہجر زادوں کیذرا سا سانس پڑاو

چراغ آکے جلاؤ بہت اندھیرا ہے Read More »

خبر نہیں تھی یہ زندگی میں کمال ہو گا

خبر نہیں تھی یہ زندگی میں کمال ہو گاجو تھا مخالف وہ شخص ہم خیا ل ہو گا اگر ہو ممکن مجھے بھلانا تو بھول جانامیں جانتی ہوں تمیں بھلانا محال ہوگا گلے بہت سے جو ان کہے ہیں کرونگی میں بھیجو رشتہ ان سے کبھی ہمارا بحال ہو گا— کوئی مجھے کلُ جہان دیدے

خبر نہیں تھی یہ زندگی میں کمال ہو گا Read More »

یاد ہے وہ بھی اک زمانہ تھا

یاد ہے وہ بھی اک زمانہ تھاآپ کا ہم سے دوستانہ تھا ایک اپنا بھی آشیانہ تھاشام لوٹ کے بھی انا تھا بات ویسے تو کتنی سادہ تھیپھر بھی لہجہ منافقانہ تھا آپ بھی ہم سے پیار کرتے تھےیا تخیل یہ شاعرانہ تھا——- در حقیقت وہی حقیقت تھیآپ سے ربط غائبانہ تھا دل اسی سے

یاد ہے وہ بھی اک زمانہ تھا Read More »