MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بھلا نہیں تو بُرا ملے گا

بھلا نہیں تو بُرا ملے گاوفا کا کچھ تو صلہ ملے گا ہمیشہ ہر مُسکراتا چہرہ !کبھی کبھی غمزدہ ملے گا طواف کرتی ہیں جسکا آنکھیںوہ در کبھی تو کُھلا ملے گا ہو جستجو پہ یقینِ کاملتو ڈھونڈنے سے خدا ملے گا دُکھوں کے گرد و غبار سے ابہر ایک چہرہ اٹا ملے گا وفا […]

بھلا نہیں تو بُرا ملے گا Read More »

تجھے جب بھی میں اک نظر دیکھتا ہوں,,

تجھے جب بھی میں اک نظر دیکھتا ہوں,,تو قدرت کے خُوباں ہُنر دیکھتا ہوں,, چُھپاکر زمانے کی نظروں سے تجھکو,,تصّور میں شام و سحر دیکھتا ہوں,, ہے گہرائی کتنی یہ پلکوں کے پیچھے,,نظر سے مِلا کر نظر دیکھتا ہوں,, سمایا ہے جب سے تُو قلب و نظر میں,,تجھے دیکھتا ہوں جدھر دیکھتا ہوں,, حقیقت میں

تجھے جب بھی میں اک نظر دیکھتا ہوں,, Read More »

نظر ہدف پہ رکھی چل دیے سہارے بغیر

نظر ہدف پہ رکھی چل دیے سہارے بغیر خود اپنی راہ نکالی ہے چاند تارے بغیر میں اپنے شہر میں اس گوشے کی تلاش میں ہوں جہاں میں زندہ رہوں پر کسی کو مارے بغیر سنو یہ حکم نیا حاکمان وقت کا ہے نہ گھر سے نکلے کوئی اب نظر اتارے بغیر کچھ اس طرح

نظر ہدف پہ رکھی چل دیے سہارے بغیر Read More »

وہ ایک عہد جو عہد وصال تھا ہی نہیں

وہ ایک عہد جو عہد وصال تھا ہی نہیں ترا کرم تھا وہ میرا کمال تھا ہی نہیں وہاں کسی کی زباں پر سوال تھا ہی نہیں قبول کرنا تھا بس قیل و قال تھا ہی نہیں میں خوش گمان تری نگہ التفات پہ ہوں وگرنہ زخموں کا تو اندمال تھا ہی نہیں ترے مزاج

وہ ایک عہد جو عہد وصال تھا ہی نہیں Read More »

جو حقیقت ہے مرے وہم و گماں سے کم ہے

جو حقیقت ہے مرے وہم و گماں سے کم ہے تپش اشک مرے سوز نہاں سے کم ہے یہ جو قدموں میں ستاروں کا جہاں دیکھتے ہو یہ جہاں بھی میرے خوابوں کے جہاں سے کم ہے آج کل نیند نہیں آتی ہے شب بھر مجھ کو جو خسارہ ہے مرے اشک رواں سے کم

جو حقیقت ہے مرے وہم و گماں سے کم ہے Read More »

افشاء تو اپنی ذات کر کچھ بات کر

افشاء تو اپنی ذات کر کچھ بات کر کچھ تابش جذبات کر کچھ بات کر شاید ترے لفظوں سے کوئی جی اٹھے اپنا سخن خیرات کر کچھ بات کر یہ خامشی تو زہر ہے مت پی اسے چاہے خود اپنے ساتھ کر کچھ بات کر کچھ تو دکھا اپنے سخن کا معجزہ الفاظ کی برسات

افشاء تو اپنی ذات کر کچھ بات کر Read More »

کوئی جمال پہ حیراں کوئی وصال میں گم

کوئی جمال پہ حیراں کوئی وصال میں گم کوئی کمال ، کوئی صاحب کمال میں گم جو زندہ لوگ ہوں زندہ رہیں گے تا بہ ابد ہوا نہ ہو گا کہیں کچھ بھی ماہ و سال میں گم یہ کس کمال سے الجھا دیا ہے تو نے مجھے ترے جواب پہ حیراں ترے سوال میں

کوئی جمال پہ حیراں کوئی وصال میں گم Read More »

نہ خود کو یونہی نڈھال کرتے سوال کرتے

نہ خود کو یونہی نڈھال کرتے سوال کرتے جو رابطے تھے بحال کرتے سوال کرتے خموش رہنا ہے بزدلوں میں شمار ہونا یہ سوچ کر کچھ کمال کرتے سوال کرتے یہ خود کلامی کا ہی نتیجہ ملا ہے تم کو کہ عمر گزری ملال کرتے سوال کرتے جو منصب دلبری ہے اس کا تقاضا یہ

نہ خود کو یونہی نڈھال کرتے سوال کرتے Read More »

کہیں رستہ بنانا اور کہیں دیوار ہونا

کہیں رستہ بنانا اور کہیں دیوار ہونا بہت مشکل عمل ہے آئینہ بردار ہونا زمانے بھر کی سننا سوچنا اور دل جلانا عذاب جاں بنا ہے ذہن کا بیدار ہونا تمہارے راستے آسان کرتا جا رہا ہوں یہی ہوتا ہے خود سے بر سر پیکار ہونا اسی کو زندگی کہتے ہیں بس اتنا سمجھ لو

کہیں رستہ بنانا اور کہیں دیوار ہونا Read More »

رونق ارض و سما ہے مجھ میں

رونق ارض و سما ہے مجھ میں میری وسعت سے خلا ہے مجھ میں ایک طوفان بلا ہے مجھ میں یہ جو اک ذہن رسا ہے مجھ میں دھڑکنیں شور سلاسل جیسی کوئی زنجیر بہ پا ہے مجھ میں کیوں میں ہر شخص کی نظروں میں ہوں کیا ہے وہ جو کہ نیا ہے مجھ

رونق ارض و سما ہے مجھ میں Read More »