MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کشتیوں سے اتر نہ جائیں کہیں

کشتیوں سے اتر نہ جائیں کہیںلوگ طوفان سے ڈر نہ جائیں کہیں زندگی ہے کہ آگ کا دریاشدت غم سے مر نہ جائیں کہیں جن کو ظلمت نے باندھ رکھا ہےچاندنی میں بکھر نہ جائیں کہیں روک اشکوں کو اب سر مژگاںیہ بھی حد سے گزر نہ جائیں کہیں آؤ لکھ لیں لہو سے عہد […]

کشتیوں سے اتر نہ جائیں کہیں Read More »

چند ٹوٹے ہوے بکھرے ہوے خوابوں کے سوا

چند ٹوٹے ہوے بکھرے ہوے خوابوں کے سواکچھ نہیں اب میرے دامن میں شراروں کے سوا دل سلگتا ہے مرا شعلہ بیانی سے تریبول کچھ اور میری جان حسابوں کے سوا ساقیا کھینچ نہ تو ہاتھ کرم سے اپنےاور بھی کچھ ہے ترے پاس نگاہوں کے سوا تشنگی کا یہ تقاضہ ہے سر بزم طربکھول

چند ٹوٹے ہوے بکھرے ہوے خوابوں کے سوا Read More »

صحرا میں دور دور تلک، گل کھلا رہا

صحرا میں دور دور تلک، گل کھلا رہااس خواب کی تلاش میں میں جاگتا رہا دنیا کی بیل علم کی شاخوں پہ چڑھ گٸبرگد ہراک کمار کو پچکارتا رہا کچھ تو فضاۓ کیف بھی میرے خلاف تھیکچھ میں بھی بال و پر کے طرف دیکھتا رہا اس معرکے میں جتنا تھی شرط لازمیپھر میں رہا

صحرا میں دور دور تلک، گل کھلا رہا Read More »

اس کی تصویروں کی نسبت خوب ہے کمرا مرا

اس کی تصویروں کی نسبت خوب ہے کمرا مراوحشتوں سے ورنہ تو منسوب ہے کمرا مرا مقبعلمی قیدی ہوں محافظ ہیں مرے کاغذ قلملشکر _ تحریر سے مغلوب ہے کمرا مرا حبس،گرمی ، پیاس ، مٹی ، وحشتیں، ویرانیاںمیرے گھر میں دشت کا مندوب ہے کمرا مرا ادھ جلے خط ، کوڑا کرکٹ ، سنگ

اس کی تصویروں کی نسبت خوب ہے کمرا مرا Read More »

آبلہ پائی میں ، خس میں خار میں ردوبدل

آبلہ پائی میں ، خس میں خار میں ردوبدلکچھ تو ہو اب دشت کے آزار میں رد و بدل میں بہادر تھا مجھے نیچا دکھانے کے لئےساتھیوں نے کی مری تلوار میں ردوبدل اک قبیلہ ہے ازل سے جان دینے کے لئےہوتی رہتی ہے صلیب و دار میں ردوبدل غیر ممکن ہے کہ ہو برسات

آبلہ پائی میں ، خس میں خار میں ردوبدل Read More »

ہمیں اس نے کہیں کا بھی نہ رکھا

ہمیں اس نے کہیں کا بھی نہ رکھاتخصص نے کہیں کا بھی نہ رکھا ہواؤں کو کہاں ہم مانتے تھےتنفس نے کہیں کا بھی نہ رکھا بڑی نعمت تھی کم علمی ہماریتجسس نے کہیں کا بھی نہ رکھا تسلسل ہجرتوں کا کہہ رہا ہےتوا ر ث نے کہیں کا بھی نہ رکھا ھمارے زخم چھپ

ہمیں اس نے کہیں کا بھی نہ رکھا Read More »

اس کے بغیر زیست میں جتنے گزارے سال و سن

اس کے بغیر زیست میں جتنے گزارے سال و سنمیرے حساب _ذات میں وه تو فلک نشیں نہ گن فردوس وصل یار میں لاکھوں برس ہیں ایک پلدشت _فراق میں مگر کٹتا نہیں ہے ایک دن مرشد کیا ہے قیس کو تو پھر ہمیں ڈرائے کیاآسیب ہجر کا کوئی ، فرقت مثال کوئی جن اس

اس کے بغیر زیست میں جتنے گزارے سال و سن Read More »

خواب ہی خواب میں رات چلتی رہی پھول کھلتے رہے

خواب ہی خواب میں رات چلتی رہی پھول کھلتے رہےکون تھی جو مرے ساتھ چلتی رہی پھول کھلتے رہے آنکھ حیران تھی، دنگ تھا آسماں ، گلشن _ وصل میںتھام کر وه مرا ، ہاتھ چلتی رہی پھول کھلتے رہے روز و شب فرصتیں،وصل کی قربتیں،عشق کے کھیل میںجیت اس کی ، مری مات چلتی

خواب ہی خواب میں رات چلتی رہی پھول کھلتے رہے Read More »

چوکھٹ پہ تیری ، دشت نشیں ، سر سے پاؤں تک

چوکھٹ پہ تیری ، دشت نشیں ، سر سے پاؤں تکجھکتا ہے ساتھ لے کے جبیں ، سر سے پاؤں تک تم چھوڑ کر گئے. تھے ہمیں جس مقام پرہم منتظر. ہیں اب بھی وہیں ، سر سے پاؤں تک پہلے تو تھوڑی دیر. کو. ٹہرا. وہ آنکھ. میںپھر ہوگیا ہے دل کا مکیں. ،

چوکھٹ پہ تیری ، دشت نشیں ، سر سے پاؤں تک Read More »

نگاہ ، کھڑکی ، در و بام کا تعلق ہے

نگاہ ، کھڑکی ، در و بام کا تعلق ہےبس اب تو اس سے فقط نام کا تعلق ہے ہمارے بخت میں وحشت لکھی تو رقص بھی لکھبچھو نے تکیے سے آرام کا تعلق ہے کچھ ایسی نسبتیں قائم ہیں دشت _ذات کے ساتھکہ جیسے بن سے کسی رام کا تعلق ہے دل _ نحیف

نگاہ ، کھڑکی ، در و بام کا تعلق ہے Read More »