کشتیوں سے اتر نہ جائیں کہیں
کشتیوں سے اتر نہ جائیں کہیںلوگ طوفان سے ڈر نہ جائیں کہیں زندگی ہے کہ آگ کا دریاشدت غم سے مر نہ جائیں کہیں جن کو ظلمت نے باندھ رکھا ہےچاندنی میں بکھر نہ جائیں کہیں روک اشکوں کو اب سر مژگاںیہ بھی حد سے گزر نہ جائیں کہیں آؤ لکھ لیں لہو سے عہد […]
کشتیوں سے اتر نہ جائیں کہیں Read More »