MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چند ٹوٹے ہوے بکھرے ہوے خوابوں کے سوا

چند ٹوٹے ہوے بکھرے ہوے خوابوں کے سوا
کچھ نہیں اب میرے دامن میں شراروں کے سوا

دل سلگتا ہے مرا شعلہ بیانی سے تری
بول کچھ اور میری جان حسابوں کے سوا

ساقیا کھینچ نہ تو ہاتھ کرم سے اپنے
اور بھی کچھ ہے ترے پاس نگاہوں کے سوا

تشنگی کا یہ تقاضہ ہے سر بزم طرب
کھول اے جان غزل لب کو شرابوں کے سوا

مسخ کر ڈالے خزاں نے میرے چہرے کے نقوش
اپنے بس میں تو ہر ایک شے ہے بہاروں کے سوا

فاصلے, جاہ و حشم عارضی دنیا کا سرور 
اپنی قسمت میں ہر ایک شے ہے گلابوں کے سوا

دل کی فہرست میں شامل ہیں کچھ احباب مرے
کون زخموں یہ نمک چھڑکے گا یاروں کے سوا

اجنبی دیش میں گو لاکھ مساٸل ہیں، مگر
زندگی ہم نے گزاری ہے سہاروں کے سوا

چند نظروں کی عناعت بھی بہت ہے عالم
دل کہاں اور ٹھہرتا ہے نظاروں کے سوا

ڈاکٹر افروز عالم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم