MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ جس کا رنگ سلونا ہے بادلوں کی طرح

غزل وہ جس کا رنگ سلونا ہے بادلوں کی طرح گرا تھا میری نگاہوں پہ بجلیوں کی طرح وہ روبرو ہو تو شاید نگاہ بھی نہ اٹھے جو میری آنکھ میں رہتا ہے رتجگوں کی طرح چراغ ماہ کے بجھنے پہ یہ ہوا محسوس نکھر گئی مری شب تیرے گیسوؤں کی طرح وہ آندھیاں ہیں […]

وہ جس کا رنگ سلونا ہے بادلوں کی طرح Read More »

ہر شخص کو ایسے دیکھتا ہوں

غزل ہر شخص کو ایسے دیکھتا ہوں جیسے کہیں دور جا رہا ہوں دیکھی ہی نہیں خزاں کی صورت کس گلشن شوق کی ہوا ہوں خود اپنی نگاہ سے ہوں روپوش آئنہ ہوں جہاں نما ہوں بے نور ہوئی ہیں جب سے آنکھیں آئنے تلاش کر رہا ہوں ناقدر شناس جوہری کو راہوں میں پڑا

ہر شخص کو ایسے دیکھتا ہوں Read More »

نظر نظر سے وہ کلیاں کھلا کھلا بھی گیا

غزل نظر نظر سے وہ کلیاں کھلا کھلا بھی گیا گل مراد کو قدموں میں روندتا بھی گیا بلند شاخ کے گل کی طرح نہ ہاتھ آیا وہ رفعتوں پہ رہا اپنی چھب دکھا بھی گیا مجھے نوید جدائی سنانے آیا تھا جدا ہوا تو مری سمت دیکھتا بھی گیا وہ زخم زخم پہ مرہم

نظر نظر سے وہ کلیاں کھلا کھلا بھی گیا Read More »

اس اہتمام سے پروانے پیشتر نہ جلے

غزل اس اہتمام سے پروانے پیشتر نہ جلے طواف شمع کریں اور کسی کے پر نہ جلے ہوا ہی ایسی چلی ہے ہر ایک سوچتا ہے تمام شہر جلے ایک میرا گھر نہ جلے ہمیں یہ دکھ کہ نمود سحر نہ دیکھ سکے سحر کو ہم سے شکایت کہ تا سحر نہ جلے چراغ شہر

اس اہتمام سے پروانے پیشتر نہ جلے Read More »

یوں تو ہر ایک شخص ہی طالب ثمر کا ہے

غزل یوں تو ہر ایک شخص ہی طالب ثمر کا ہے ایسا بھی کوئی ہے کہ جسے غم شجر کا ہے یہ کیسا کارواں ہے کہ ایک ایک گام پر سب سوچتے ہیں کیا کوئی موقع سفر کا ہے یہ کیسا آسماں ہے کہ جس کی فضاؤں میں ایک خوف سا شکستگیٔ بال و پر

یوں تو ہر ایک شخص ہی طالب ثمر کا ہے Read More »

سنے گا کون کہ دنیا بدل گئی ہے بہت

غزل شکست آبلۂ دل میں نغمگی ہے بہت سنے گا کون کہ دنیا بدل گئی ہے بہت ہر ایک نقش میں ہے نا تمامیوں کی جھلک ترے جہاں میں کسی چیز کی کمی ہے بہت گلے لگا کے گل و نسترن کو رویا ہوں کہ مجھ کو نظم گلستاں سے آگہی ہے بہت یہاں کسی

سنے گا کون کہ دنیا بدل گئی ہے بہت Read More »

جب بھی تری قربت کے کچھ امکاں نظر آئے

غزل جب بھی تری قربت کے کچھ امکاں نظر آئے ہم خوش ہوئے اتنے کہ پریشاں نظر آئے دیکھوں تو ہر اک حسن میں جھلکیں ترے انداز سوچوں تو فقط گردش دوراں نظر آئے ٹوٹا جو فسون نگہ شوق تو دیکھا صحرا تھے جو نشے میں گلستاں نظر آئے کانٹوں کے دلوں میں بھی وہی

جب بھی تری قربت کے کچھ امکاں نظر آئے Read More »

صورتِ آب رواں تھا، مجھ کو صحرا کردیا

غزل   صورتِ آب رواں تھا، مجھ کو صحرا کردیا خواہشاتِ زندگی نے ، مجھ کو تنہا کر دیا گھر کی ویرانی، حدودِ جسم و جاں تک آگئی وحشتِ دل نے مسائل میں اضافہ کر دیا بیچ ڈالے خواب اپنے ، حسرتیں نیلام کیں میں نے اپنی آرزؤں کا بھی سودا کر دیا کر رہی

صورتِ آب رواں تھا، مجھ کو صحرا کردیا Read More »

میں نہیں یومِ مئی مزدور کا دن مانتا

یومِ مئی مزدوروں کا عالمی دن میری نظر میں   کس لیے مزدور کا دن میں کہوں یومِ مئی جب مجھے معلوم ہے اِس میں چھپے ہیں شر کئی عالمی کچھ شر پسندوں نے بچھایا تھا یہ جال تاکے مزدوروں کے دم پر کر سکیں وہ کچھ کمال تھی غرض اْن کی بپا ہر سمت

میں نہیں یومِ مئی مزدور کا دن مانتا Read More »

چمن والوں سے برق بے اماں کچھ اور کہتی ہے

غزل چمن والوں سے برق بے اماں کچھ اور کہتی ہے مگر میری تو شاخ آشیاں کچھ اور کہتی ہے نظر میں اس کی یوں تو سب کی ہی رفتار ہے لیکن مرے قدموں سے گرد کارواں کچھ اور کہتی ہے یہاں کا ذرہ ذرہ محشر غم ہے حقیقت میں بظاہر رونق بزم جہاں کچھ

چمن والوں سے برق بے اماں کچھ اور کہتی ہے Read More »