MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یوں تو ہر ایک شخص ہی طالب ثمر کا ہے

غزل

یوں تو ہر ایک شخص ہی طالب ثمر کا ہے
ایسا بھی کوئی ہے کہ جسے غم شجر کا ہے

یہ کیسا کارواں ہے کہ ایک ایک گام پر
سب سوچتے ہیں کیا کوئی موقع سفر کا ہے

یہ کیسا آسماں ہے کہ جس کی فضاؤں میں
ایک خوف سا شکستگیٔ بال و پر کا ہے

یہ کیسا گھر ہے جس کے مکینوں کو ہر گھڑی
دھڑکا سا ایک لرزش دیوار و در کا ہے

آنکھوں پہ تیرگی کا تسلط ہے اس قدر
کرنوں پہ احتمال فریب نظر کا ہے

چہرے کا کوئی داغ دکھائی نہ دے مجھے
یہ معجزہ عجب مرے آئینہ گر کا ہے

تھا میر جیؔ کا دور غنیمت کہ ان دنوں
دستار ہی کا ڈر تھا مگر اب تو سر کا ہے

یہ سارے سلسلے تھے جب آنکھوں میں نور تھا
اب کس کا انتظار کسی دیدہ ور کا ہے

غالب ہے اب بلند صدا ہی دلیل پر
صادقؔ ہمارا دور عجیب شور و شر کا ہے

صادق نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم