MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اب سوچتا ہوں جاؤں تو جاؤں کدھر کو میں

غزل اب سوچتا ہوں جاؤں تو جاؤں کدھر کو میں اے کاش چھوڑتا نہ تری رہ گزر کو میں دل غم کا آئنہ ہے نظر دل کا آئنہ کیسے چھپاؤں سوز نہاں کے اثر کو میں عالم تمام ایک فریب نگاہ ہے اب کیا دکھاؤں چشم حقیقت نگر کو میں مدہوشیوں میں ٹوٹ گیا دل […]

اب سوچتا ہوں جاؤں تو جاؤں کدھر کو میں Read More »

جنون عشق یہ کیا رنگ محفل ہے جہاں میں ہوں

غزل جنون عشق یہ کیا رنگ محفل ہے جہاں میں ہوں جو عالم ہے مرا ہی عالم دل ہے جہاں میں ہوں یہاں تک کار فرما جذب کامل ہے جہاں میں ہوں کہ فرق ظاہر و باطن بھی مشکل ہے جہاں میں ہوں سوائے حسن کوئی بھی نہیں ہے مقصد ہستی سوائے عشق ہر احساس

جنون عشق یہ کیا رنگ محفل ہے جہاں میں ہوں Read More »

کیا خبر تھی عشق میں ایسا بھی اک دور آئے ہے

غزل کیا خبر تھی عشق میں ایسا بھی اک دور آئے ہے بات کیسی سانس لیتا ہوں تو جی گھبرائے ہے رحم کر جذب محبت یہ ستم کیوں ڈھائے ہے حسن اور بیتاب و حیراں کس سے دیکھا جائے ہے یوں تو ان کی یاد سے ملتی ہے تسکین حیات اور جب تڑپائے ہے ظالم

کیا خبر تھی عشق میں ایسا بھی اک دور آئے ہے Read More »

وہ قریب بھی ہیں تو کیا ہوا ہمیں اپنے کام سے کام ہے

غزل وہ قریب بھی ہیں تو کیا ہوا ہمیں اپنے کام سے کام ہے وہی جستجو وہی بے خودی وہی زندگی کا نظام ہے طلب ارتقا کی اساس ہے کہ غم اسیری کا نام ہے کہ جہاں چمن ہے وہیں قفس جہاں دانہ ہے وہیں دام ہے ہمہ وقت مجھ کو یہی ہے غم کہ

وہ قریب بھی ہیں تو کیا ہوا ہمیں اپنے کام سے کام ہے Read More »

حالت دل وہی رہی مقصد دل کو پا کے بھی

غزل حالت دل وہی رہی مقصد دل کو پا کے بھی ہم تو سکوں نہ پا سکے ان کے قریب جا کے بھی اذن نظارہ تو دیا جرأت دید چھین لی وہ کبھی سامنے نہ آئے رخ سے حجاب اٹھا کے بھی دل ہے نہ ذوق آرزو کوئی طلب نہ جستجو اب وہ کریں گے

حالت دل وہی رہی مقصد دل کو پا کے بھی Read More »

دل میں ہے اک راز جو ہونٹوں تک آ سکتا نہیں

غزل دل میں ہے اک راز جو ہونٹوں تک آ سکتا نہیں یعنی میں جس حال میں بھی ہوں بتا سکتا نہیں بے خودیٔ ذوق سجدہ نے یہ عالم کر دیا سر تو سر اب تو نگاہیں بھی اٹھا سکتا نہیں ہے رضائے دوست میں شامل جنون عشق بھی چاہے کچھ کیجے مجھے تو ہوش

دل میں ہے اک راز جو ہونٹوں تک آ سکتا نہیں Read More »

وہی کچھ زندگی میں زندگی کا بھید پاتے ہیں

غزل وہی کچھ زندگی میں زندگی کا بھید پاتے ہیں جو پیہم جستجو کرتے ہیں برسوں غم اٹھاتے ہیں جو سچ پوچھو تو خود جیتے ہیں اور جینا سکھاتے ہیں وہ دیوانے جو ہر طوفان غم میں مسکراتے ہیں کچھ اس انداز سے وہ اپنی محفل میں بلاتے ہیں کہ انساں کے قدم اٹھنے سے

وہی کچھ زندگی میں زندگی کا بھید پاتے ہیں Read More »

دل غم سے بھی بیزار ہے معلوم نہیں کیوں

غزل دل غم سے بھی بیزار ہے معلوم نہیں کیوں یہ عیش بھی اب یار ہے معلوم نہیں کیوں عالم ہمہ دل دار ہے معلوم نہیں کیوں جو غم ہے غم یار ہے معلوم نہیں کیوں اب حسن بھی کچھ سامنے آنے میں ہے محتاط اب عشق بھی خوددار ہے معلوم نہیں کیوں وہ عشق

دل غم سے بھی بیزار ہے معلوم نہیں کیوں Read More »

جنون عشق کسی کو بھی یوں نہ راس آئے

غزل جنون عشق کسی کو بھی یوں نہ راس آئے وہ میرے پاس تو آئے مگر اداس آئے جسے حیات کسی رخ سے بھی نہ راس آئے کسی کے پاس نہ جائے ہمارے پاس آئے وہاں سے جلد گزر جائیں رہروان حیات جہاں بھی راہ میں کوئی مقام یاس آئے فراق و وصل کی روداد

جنون عشق کسی کو بھی یوں نہ راس آئے Read More »

ایک اک لمحہ گزارا جا رہا ہے ہوش میں

غزل ایک اک لمحہ گزارا جا رہا ہے ہوش میں اے زہے قسمت جو ہیں طوفان کی آغوش میں اب یہ عالم ہے ہمارا بندگی کے جوش میں ایک سجدہ بے خودی میں ایک سجدہ ہوش میں مصلحت کچھ بھی نہ کہنے دے تو اس کا کیا علاج جانے کتنی داستانیں ہیں لب خاموش میں

ایک اک لمحہ گزارا جا رہا ہے ہوش میں Read More »