اب سوچتا ہوں جاؤں تو جاؤں کدھر کو میں
غزل اب سوچتا ہوں جاؤں تو جاؤں کدھر کو میں اے کاش چھوڑتا نہ تری رہ گزر کو میں دل غم کا آئنہ ہے نظر دل کا آئنہ کیسے چھپاؤں سوز نہاں کے اثر کو میں عالم تمام ایک فریب نگاہ ہے اب کیا دکھاؤں چشم حقیقت نگر کو میں مدہوشیوں میں ٹوٹ گیا دل […]
اب سوچتا ہوں جاؤں تو جاؤں کدھر کو میں Read More »