Karoobaar Lahoo Ka hay apna jab hoyee ghaeel beech dia
غزل
کاروبار لہو کا ہے اپنا جب ہوئے گھائل بیچ دیا
گہ گوشوں میں لگی ہے بولی گہ سرِ محفل بیچ دیا
تم اپنا سرمایہ جھونکو اہلِ زمانہ اور کہیں
اونے پونے داموں ہی سہی ہم نے تو دل بیچ دیا
زردئِ گل سے جان ہی لے گا آج نہیں تو کل گلچیں
کاٹ کے پر اور سی کے زباں صیاد نے بسمل بیچ دیا
جس کی کھنک سے فقیہِ شہر تہجد کو جاگ اٹھتا تھا
رقاصہ نے وہ گھنگرو بھی توڑ کے پائل بیچ دیا
جن کو ہنسی آتی ہے بہت مجنوں کی آبلہ پائی پر
سن بیٹھیں گے لیلیٰ نے بھی ناقہ و محمل بیچ دیا
یہ جو گدا ہیں اس کے در کے بندہ و آقا ان میں بھی ہیں
مول چکا کے منعم نے سائل کو سائل بیچ دیا
سَچے عشق کا سُچا موتی بھیک نہیں راحیلؔ میاں
سودا نقد اور نقد بھی ایسا عمر کا حاصل بیچ دیا
راحیلؔ فاروق
Raheel Farooq