MOJ E SUKHAN

شب مبین کا مہتاب ارغواں کر کے

Shab e Mubeen ka mahtaab Arghwaan Kar kay

غزل

شب مبین کا مہتاب ارغواں کر کے
سکون پانے لگا ہجر خوں رواں کرکے

یقین وعدے پہ اس کے کرے ہے دل ، جبکہ
مجھے خبر ہے مُکر جائے گا زباں کر کے

وہ خط کہ جن پہ ترے نقشِ لب مزین تھے
انہیں سنبھال کے رکھا ہے نقدِ جاں کر کے

عجب سرائے ہے وہ جس کا قصہ گو اکثر
مآل چھوڑ دے قصے کا عنفواں کر کے

وہ جس کی آنچ نے صحرا کو آبلے بخشے
میں چل پڑا اسی سورج کو سائباں کر کے

بزعمِ عقل دلیلوں نے ہار منوا لی
مرا یقین پسِ پردہِ گماں کر کے

پھلا نہ ایک بھی پودا زمینِ دل پہ صدف
اگرچے لاکھ لگائے یہاں وہاں کر کے
علی صدف

Ali Sadaf

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم