Koi Aas Paas Nahi Raha tu Khyal teri Taraf Gaya
غزل
کوئی آس پاس نہیں رہا ‘ تو خیال تیری طرف گیا
مجھے اپنا ہاتھ بھی چُھو گیا، تو خیال تیری طرف گیا
کسی حادثے کی خبر ہوئی، تو فَضا کی سانس اُکھڑ گئی
کوئی اتّفاق سے بچ گیا، تو خیال تیری طرف گیا
کوئی آ کے جیسے چلا گیا، کوئی جا کے جیسے گیا نہیں
مجھے اپنا گھر کبھی گھر لگا، تو خیال تیری طرف گیا
مِری بے کلی تھی شگُفتَنی، سو بہار مجھ سے لپٹ گئی
کہا وَہم نے کہ یہ کون تھا ؟ تو خیال تیری طرف گیا
مِرے اختیار کی شدّتیں، مِری دسترس سے چلی گئیں
کہیں تُو بھی سامنے آ گیا، تو خیال تیری طرف گیا
( لیاقت علی عاصِمؔ )
Liaqat Ali Aasim