MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اس کا دل کس نے توڑا بتاتی نہیں

Uss ka Dil kis nay toora Bataati Nahee غزل اس کا دل کس نے توڑا بتاتی نہیںبہتے آنسو مگر وہ چھپاتی نہیں دل ہے مردہ مگر وہ جیے جا رہیلوگ کہتے ہیں وہ مسکراتی نہیں گنگناتی تو ہے آج بھی وہ مگرگیت چاہت بھرے اب وہ گاتی نہیں اب تو محفل بھی تنہا سجاتی ہے […]

اس کا دل کس نے توڑا بتاتی نہیں Read More »

تجھ کو دیکھوں تو سکوں جانِ جگر آتا ہے

Tujh Ko Dekhoon tu sukoon jaan e jigar aata Hay تجھ کو دیکھوں تو سکوں جان جگر آتا ہےتو ہی بس یاد ہمیں شام و سحر آتا ہے جس طرف آنکھ میں اٹھاؤں تجھی کو پاؤںسچ کہوں تو مجھے ہر سو ہی نظر آتا ہے زندگی تو کہیں رکتی نہیں دکھتی مجھ کوموڑ در موڑ

تجھ کو دیکھوں تو سکوں جانِ جگر آتا ہے Read More »

میرے اشجار کو اس قدر تناور کر دے

Meray Ashaar ko is qdr tanawar karday غزل میرے اشجار کو اس قدر تناور کر دےدھوپ کو رہ نہ ملے یوں چھتناور کر دے کس قدر خشک ہے یہ دریا ئے الفت جاناںبرسا دے پیار مرے من کو سمندر کر دے اپنا مانا ہے ستمگر تجھے ، چاہا اس قدرڈر ہے یہ عشق نہ مجھ

میرے اشجار کو اس قدر تناور کر دے Read More »

ہجر کی آگ جلانے آئے

Hijr Ki Aag Jalany Aayee غزل ہجر کی آگ جلانے آئےوہ سدا ہم کو ستانے آئے ہم کبھی کھل کے بھی تو ہنستے تھےلوٹ کر کیوں نہ زمانے آئے سہہ نہ پائیں گے ملن وہ اپناجو سدا ہم کو لڑانے آئے جب کبھی وقت ملن کا آیاتمہیں پھر یاد بہانے آئے کھو گئی ہوں میں

ہجر کی آگ جلانے آئے Read More »

کوئی سنا رہا ہے مژدہ بہار کا

Koi Suna Raha Hay muzda Bahaar Ka غزل کوئی سنا رہا ہے مژدہ بہار کاگل سے کھلا رہا ہے مژدہ بہار کا ویران دل میں میرے پھر سے نئے نئےارماں جگا رہا ہے مژدہ بہار کا کھلتے ہیں ساتھ گل کے ،دل بھی بہار میںنغمہ یہ گا رہا ہے مژدہ بہار کا دلکش بڑے ہی

کوئی سنا رہا ہے مژدہ بہار کا Read More »

جل رہا دل دھواں سا اٹھتا ہے

Jal raha Dil Dhowaan sa Uthta Hay غزل جل رہا دل دھواں سا اٹھتا ہےدرد ہر پل یہاں سے اٹھتا ہے آگ گھر کے چراغ سے لگتیپر ! دھواں ہر زباں سے اٹھتا ہے لوگ پہروں جگہ وہ تکتے ہیںمیرا ساجن جہاں سے اٹھتا ہے ہونٹ چپ ہیں مگر مرے اندرشور جانے کہاں سے اٹھتا

جل رہا دل دھواں سا اٹھتا ہے Read More »

اپنی الفت کو تماشہ تو بنایا نہ کرو

Apni Ulfat ko Tamasha to banaya na karo غزل اپنی الفت کو تماشہ تو بنایا نہ کروگیت الفت سے بھرے سب کو سنایا نہ کرو مار دیتی ہے مروت بھی بڑھے حد سے اگرہاں سبھی رشتے مروت سے نبھایا نہ کرو رو پڑا دل یہ مرا دیکھ کے تیری بے رخیہے قسم تجھ کو مجھے

اپنی الفت کو تماشہ تو بنایا نہ کرو Read More »

آوارہ ہواؤں کا پتہ مانگ رہا ہے

Awara Hawaoo say Patta Maang Raha Hay غزل آوارہ ہواؤں کا پتہ مانگ رہا ہےناداں ہے وفاؤں کا صلہ مانگ رہا ہے جب سے یہ سنا ہے کہ ترے در پہ ملے سباس آس پہ تب سےہی گدا مانگ رہا ہے جی بھر کے وہ جب کھیل چکا دل سے ہمارےتب اور کسی سے وہ

آوارہ ہواؤں کا پتہ مانگ رہا ہے Read More »

عشق کا جو گناہ کرتے ہیں

Ishq ka Jo Gunah karty hain غزل عشق کا جو گناہ کرتے ہیںزندگی خود تباہ کرتے ہیں شب کی اپنی اذیتیں ہیں مگردن کو بھی ہم سیاہ کرتے ہیں ان کا تیغِ ستم نہ رک جائےاس لیے ضبطِ آہ کرتے ہیں اٹھ رہا ہوں جہان سے تب وہمیری جانب نگاہ کرتے ہیں لوگ محفل میں

عشق کا جو گناہ کرتے ہیں Read More »

کیا بتائیں کیا نہیں سہتے رہے

Kia bataeen Kia nahi sehty Rahay غزل کیا بتائیں کیا نہیں سہتے رہےکس طرح جیتے رہے مرتے رہے کون کرتا اب بلاؤں کا شمارہر طرف سے حادثے بڑھتے رہے کشمکش میں کٹ گئی یہ زندگیخود ہی اپنے آپ سے لڑتے رہے اپنے گھر میں بے حسی کی تھی شرابپاس کے سارے ہی گھر جلتے رہے

کیا بتائیں کیا نہیں سہتے رہے Read More »