MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہجر کی آگ جلانے آئے

Hijr Ki Aag Jalany Aayee

غزل

ہجر کی آگ جلانے آئے
وہ سدا ہم کو ستانے آئے

ہم کبھی کھل کے بھی تو ہنستے تھے
لوٹ کر کیوں نہ زمانے آئے

سہہ نہ پائیں گے ملن وہ اپنا
جو سدا ہم کو لڑانے آئے

جب کبھی وقت ملن کا آیا
تمہیں پھر یاد بہانے آئے

کھو گئی ہوں میں حسیں یادوں میں
یاد لمحے جو سہانے آئے

چاہتوں کا نہ یقیں ہے ان کو
بارہا وہ یہ جتانے آئے

دل نے ریحانہ پکارا جب بھی
وہ فقط ہم کو رلانے آئے

ریحانہ اعجاز

Rehana Aijaz

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم