Chuppay Gham ka Izhaar Hoty hain aanso
غزل
چھپے غم کا اظہار ہوتے ہیں آنسو
بھلے سوئیں ہم پر نہ سوتے ہیں آنسو
عجب سا ہے رشتہ نگاہوں کا ان سے
جو ہنس دیں نگاہیں تو روتے ہیں آنسو
کبھی یہ ہنسی میں چھپاتے ہیں خود کو
کبھی ہنستے ہنستے بھی روتے ہیں آنسو
ان ہی سے تو ہے زندگی کی حرارت
کہ دل میں لہو رنگ بوتے ہیں آنسو
بنائیں یہ حسرت کی تصویر ایسے
کہ تصویر کو ہی بھگوتے ہیں آنسو
جھلستی ہوں جب آتشِ غم سے آنکھیں
تو ان کو طراوت سے دھوتے ہیں آنسو
یہ حشام گریہ کناں جو ہوا ہے
حسیں کتنی مالا پروتے ہیں آنسو
حشام سید
Hasham Syed