MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جو نہ وہم و گمان میں آوے

غزل جو نہ وہم و گمان میں آوے کس طرح تیرے دھیان میں آوے تجھ سے ہمدم رکھوں نہ پوشیدہ حال دل گر بیان میں آوے میری یہ آرزو ہے وقت مرگ اس کی آواز کان میں آوے میں نہ دوں گا جواب تو کہہ لے جو کہ تیری زبان میں آوے یہ شب وصل […]

جو نہ وہم و گمان میں آوے Read More »

اس کی صورت کا تصور دل میں جب لاتے ہیں ہم

غزل اس کی صورت کا تصور دل میں جب لاتے ہیں ہم خود بہ خود اپنے سے ہمدم آپ گھبراتے ہیں ہم ہوش گر رہتا ہو تجھ کو ہم سے پوشیدہ نہ رکھ جب وہ یاں آتا ہے اے دل تب کہاں جاتے ہیں ہم بیٹھے بیٹھے کیوں یکایک ہائے دل کھویا گیا ہمدم اس

اس کی صورت کا تصور دل میں جب لاتے ہیں ہم Read More »

دنیا کے مسائل سے ہر وقت گھرا ہونا

غزل دنیا کے مسائل سے ہر وقت گھرا ہونا مشکل تو بہت ہوگا دنیا کا خدا ہونا امید کے دامن کو چھوڑا بھی نہیں جاتا لگتا تو ہے نا ممکن وعدے کا وفا ہونا جتنی بھی خطائیں ہیں یا رب ہیں جوانی کی جب بس میں نہیں ہوتا اچھا کہ برا ہونا دشرتھ کی طرح

دنیا کے مسائل سے ہر وقت گھرا ہونا Read More »

کر گئے اتنا نکما ترے احساں ہم کو

غزل کر گئے اتنا نکما ترے احساں ہم کو فائدے سے بھی زیادہ ہوا نقصاں ہم کو مے کشی سے ہمیں یہ فائدہ ہے اے زاہد لگنے لگتے ہیں سبھی کام ہی آساں ہم کو کون نقصان اٹھاتا ہے اصولوں کے لئے دین و ایمان سے بڑھ کر ہیں دل و جاں ہم کو ہم

کر گئے اتنا نکما ترے احساں ہم کو Read More »

غیر سے ہی کیوں گلہ شکوہ رہے

غزل غیر سے ہی کیوں گلہ شکوہ رہے مشکلوں میں اپنا کب اپنا رہے روٹھنے کے وقت یہ رکھو خیال لوٹ کر آنے کا کچھ رستہ رہے چاہے کچھ بھی ہو تعلق عرش سے فرش سے انسان کا رشتہ رہے ہر کسی کے دل میں ہو یہ آرزو دوستوں سے قد مرا اونچا رہے جھوٹا

غیر سے ہی کیوں گلہ شکوہ رہے Read More »

سونا چاندی ہی نہ لائے ہو نہ گوہر لائے

غزل سونا چاندی ہی نہ لائے ہو نہ گوہر لائے جا کے تم چاند سے لائے بھی تو پتھر لائے کون سا کام ہے دشوار تصور کے لئے یہ اگر چاہے تو چلو میں سمندر لائے وقت کیا شے ہے خدایا تری رحمت کیا شے لوگ کہتے ہیں کہ ہر چیز مقدر لائے اور کچھ

سونا چاندی ہی نہ لائے ہو نہ گوہر لائے Read More »

عشق رسم و رواج کیا سمجھے

غزل عشق رسم و رواج کیا سمجھے دل کی باتیں سماج کیا سمجھے جو ادا ہی ادا ہو سر تا پا وہ کسی کا مزاج کیا سمجھے کیا سمجھتا ہے حال ماضی کو کل کی باتوں کو آج کیا سمجھے تشنگی ہی شراب کو جانے بھوک کیا ہے اناج کیا سمجھے ضبط کیا جانے موج

عشق رسم و رواج کیا سمجھے Read More »

اس درجہ مطمئن ہیں تری دوستی سے ہم

غزل اس درجہ مطمئن ہیں تری دوستی سے ہم مانگے اگر تو جان بھی دیں گے خوشی سے ہم کہہ ڈالیے جو آپ کے دل میں ہے بے دھڑک کرتے نہیں ہیں بات کسی کی کسی سے ہم ہے ان کی بات اور ہے ان کا حساب اور ویسے تو پیار کرتے ہیں ہر آدمی

اس درجہ مطمئن ہیں تری دوستی سے ہم Read More »

ہمدردیاں کسی سے کسی سے دعا ملی

غزل ہمدردیاں کسی سے کسی سے دعا ملی یا رب صلہ ملا ہے مجھے یا سزا ملی اس آدمی کو جانئے سب کچھ ہی مل گیا جس آدمی کو دولت شرم و حیا ملی کچھ لوگوں کی شکایتیں ہوں گی بجا مگر ہم کو تو دوستی میں ہمیشہ وفا ملی پی جائیں خم کے خم

ہمدردیاں کسی سے کسی سے دعا ملی Read More »

اس بات کو بھولیں نہ مسلمان خدا کے

غزل اس بات کو بھولیں نہ مسلمان خدا کے کافر بھی حقیقت میں ہیں انسان خدا کے وہ کون ہے جس کو نہیں کچھ اس سے شکایت وہ کون ہے جس پر نہیں احسان خدا کے بڑھتا ہی چلا جاتا ہے دنیا میں تعصب بنتے ہی چلے جاتے ہیں ایوان خدا کے جلتی ہیں بہر

اس بات کو بھولیں نہ مسلمان خدا کے Read More »