جو نہ وہم و گمان میں آوے
غزل جو نہ وہم و گمان میں آوے کس طرح تیرے دھیان میں آوے تجھ سے ہمدم رکھوں نہ پوشیدہ حال دل گر بیان میں آوے میری یہ آرزو ہے وقت مرگ اس کی آواز کان میں آوے میں نہ دوں گا جواب تو کہہ لے جو کہ تیری زبان میں آوے یہ شب وصل […]
جو نہ وہم و گمان میں آوے Read More »