MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جنون شوق کا حاصل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

غزل جنون شوق کا حاصل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے کہاں دونوں کی ہے منزل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے ڈبونا چاہتی تھیں جو بھی ہم دونوں کی کشتی کو انہیں موجوں میں تھا ساحل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے تمناؤں کے طوفانوں نے فرصت ہی نہ ملنے دی مقامات نگاہ و […]

جنون شوق کا حاصل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے Read More »

دل جب سے ترے ہجر میں بیمار پڑا ہے

غزل دل جب سے ترے ہجر میں بیمار پڑا ہے جینے سے خفا جان سے بے زار پڑا ہے سودا نہ بنا گیسوئے جاناں سے تو کیا غم لے لیں گے کہیں اور سے بازار پڑا ہے پرہیز تپ ہجر سے ہے تجھ کو جو اے دل تو اور بھی آگے کبھی بیمار پڑا ہے

دل جب سے ترے ہجر میں بیمار پڑا ہے Read More »

نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے

غزل نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے امید وصل ہی پر ان دنوں گزارا ہے نہ دیکھوں تجھ کو تو آتا نہیں کچھ آہ نظر تو میری پتلی کا آنکھوں کی یار تارا ہے مجھے جو بام پہ شب کو بلائے ہے وہ ماہ مگر عروج پہ کیا ان دنوں ستارا ہے

نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے Read More »

مجھ سے آزردہ جو اس گل رو کو اب پاتے ہیں لوگ

غزل مجھ سے آزردہ جو اس گل رو کو اب پاتے ہیں لوگ اور ہی رنگت سے کچھ کچھ آ کے فرماتے ہیں لوگ جب سے جانا بند میرا ہو گیا اے ہمدمو تب سے ان کے گھر میں ہر ہر طرح کے آتے ہیں لوگ میرے آہ سرد کی تاثیر اس کے دل میں

مجھ سے آزردہ جو اس گل رو کو اب پاتے ہیں لوگ Read More »

اس شعلہ رو سے جب سے مری آنکھ جا لگی

غزل اس شعلہ رو سے جب سے مری آنکھ جا لگی کیا جانے تب سے سینہ میں کیا آگ آ لگی کعبہ میں وہ ظہور ہے جو بت کدہ میں ہے اے شیخ منصفی سے تو کہیو خدا لگی پا تک بھی دسترس نہ ہو مجھ کو یہ رشک ہے اور تیرے ہاتھ میں رہے

اس شعلہ رو سے جب سے مری آنکھ جا لگی Read More »

شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئے

غزل شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئے کچھ ہنسانا چاہیئے اور کچھ رلانا چاہیئے زندگی کیونکر کٹے بے شغل اس پیری میں آہ تم کو اب اس نوجواں سے دل لگانا چاہیئے اس میں سب راز نہاں ہو جائیں گے ہم پر عیاں پھر اسے اک بار گھر اپنے بلانا چاہیئے پھر یہ

شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئے Read More »

میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑا

غزل میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑا پر تصور میں مرے اس نے نہ آنا چھوڑا اس نے کہنے سے رقیبوں کے مجھے چھوڑ دیا جس کی الفت میں دلا تو نے زمانا چھوڑا اٹھ گیا پردۂ ناموس مرے عشق کا آہ اس نے کھڑکی میں جو چلمن کا لگانا چھوڑا

میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑا Read More »

مرا اس کے پس دیوار گھر ہوتا تو کیا ہوتا

غزل مرا اس کے پس دیوار گھر ہوتا تو کیا ہوتا قضا سے اے فلک گر اس قدر ہوتا تو کیا ہوتا جنازہ پر مرے اس شوخ کو لایا ہے تو آخر اگر اے عشق کچھ تجھ میں اثر ہوتا تو کیا ہوتا ہوا بے ہوش بالکل آہ اس کی آمد آمد میں گر آنے

مرا اس کے پس دیوار گھر ہوتا تو کیا ہوتا Read More »

اس کے کوچہ میں گیا میں سو پھر آیا نہ گیا

غزل اس کے کوچہ میں گیا میں سو پھر آیا نہ گیا میں وہاں آپ کو ڈھونڈا تو میں پایا نہ گیا گم ہوا دل مرے پہلو سے کہ پایا نہ گیا شاید اس کوچہ میں جا اس سے پھر آیا نہ گیا دم بخود ہو کے موا اس کی نزاکت کے سبب آہ و

اس کے کوچہ میں گیا میں سو پھر آیا نہ گیا Read More »

مکھڑا وہ بت جدھر کرے گا

غزل مکھڑا وہ بت جدھر کرے گا بندہ سجدہ ادھر کرے گا کرنا ہو جسے کہ خانہ ویراں دل میں ترے وہ گھر کرے گا وہ لطف اٹھائے گا سفر کا آپ اپنے میں جو سفر کرے گا واعظ یہ سخن ترا کبھی آہ ہم میں بھی کچھ اثر کرے گا اے شیخ تجھے بتوں

مکھڑا وہ بت جدھر کرے گا Read More »