MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس بات کو بھولیں نہ مسلمان خدا کے

غزل

اس بات کو بھولیں نہ مسلمان خدا کے
کافر بھی حقیقت میں ہیں انسان خدا کے

وہ کون ہے جس کو نہیں کچھ اس سے شکایت
وہ کون ہے جس پر نہیں احسان خدا کے

بڑھتا ہی چلا جاتا ہے دنیا میں تعصب
بنتے ہی چلے جاتے ہیں ایوان خدا کے

جلتی ہیں بہر حال گناہوں کی سزائیں
کرتے رہیں ہم کتنے بھی گن گان خدا کے

دنیا تو حقیقت میں ہے اک رین بسیرا
ہم سب تو ہیں کچھ وقت کے مہمان خدا کے

مر کر بھی ضروری نہیں پائیں گے رہائی
دنیا کے علاوہ بھی ہیں زندان خدا کے

سوچو تو ذرا بھی نہیں انسان کی وقعت
سدھ بدھ بھی خدا کی ہے دل و جان خدا کے

پروازؔ کبھی غور سے یہ بات بھی سوچیں
اک بار بھی کام آیا ہے انسان خدا کے

درشن دیال پرواز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم