MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کوئی مشکل نہیں انساں ہونا

غزل کوئی مشکل نہیں انساں ہونا آدمی سیکھ لے ناداں ہونا کچھ بھی ہوتا نہیں اتنا آساں جتنا آساں ہے پریشاں ہونا اچھے اچھوں کو بنا دے شیطاں کوئی امید نہ امکاں ہونا دل کی مانوں گا نہ اب دلبر کی ہو گیا جتنا تھا نقصاں ہونا فکر فردا سے ہوا ہے سب کچھ ورنہ […]

کوئی مشکل نہیں انساں ہونا Read More »

چاہے مانو برا ہم نہیں مانتے

غزل چاہے مانو برا ہم نہیں مانتے پتھروں کو خدا ہم نہیں مانتے جس کے ہونے نہ ہونے کی تصدیق ہو اس خدا کو خدا ہم نہیں مانتے مانتے ہیں اسے جو دکھائی نہ دے اور کوئی خدا ہم نہیں مانتے چاہے کتنا ہی مشکل ہو جینا اسے زندگی کو سزا ہم نہیں مانتے اپنے

چاہے مانو برا ہم نہیں مانتے Read More »

ایک نظم

نظم کس تصور کے رقص میں گو تری صدا کا وجود مجھ کو ملا نہیں ہے کسی کتاب کہن میں چلتی عظیم دانش کے نقش پا میں ترے بدن کا نشان مجھ کو ملا نہیں ہے میں چار سمتوں سے پوچھتا ہوں عناصروں کے تغیروں سے میں سلطنت کے نجومیوں سے یہ پوچھتا ہوں کہ

ایک نظم Read More »

اک تیر اپنے لیے

اک تیر اپنے لیے اس کون و مکاں کی دہلیز عبور کرنے سے پہلے شرابور بدن کو پونچھے بغیر اپنی مصیبتوں کا زمیں ایسا بوجھ اتارے بغیر ہم اپنے لہو کا محصول ادا کر چکے ہیں ہم جو ستارہ شناس ہیں ہم جو پرندوں کی یک اڑان سے موسموں کا مزاج بھانپ لیتے ہیں ہم

اک تیر اپنے لیے Read More »

اک نظم

اک نظم رفتہ رفتہ سب آوازیں جو دل کے اندر ہیں اور باہر اک ایسے سکتے میں کھو جائیں گی جس کا مفہوم ابھی تک کسی اشاعت گھر کے حرفوں میں ڈھلا نہیں ہے آثار قدیمہ کے ماہر مدفون پرانے شہر کے اندر باہر سے کھود چکے ہیں لیکن اس کا مفہوم ابھی تک کسی

اک نظم Read More »

حرف ایک جنگل

نظم کتابیں میرا جنگل ہیں جنہیں میں کاٹ کر اب بارہویں زینے پر بیٹھا ہوں معافی کے ہیولوں میں چمکتی صورتوں سے دور تنہا حرف کے صدمات سہتا ہوں کہ میں خود آگہی کے بھاری سانسوں کا سمندر ہوں جسے نمکین پانی کی سزا آبادیوں سے بادبان کی طرف کافی دور رکھتی ہے کتابیں میرا

حرف ایک جنگل Read More »

ضمیر کے مجرم کا خواب نظم

نظم مرا مقدر عجیب ہے میں طویل راتوں کا وہ دیا ہوں جو اک لگن سے ضمیر مجرم کے خواب میں کپکپا رہا ہوں اسے ملے گی نجات مجھ کو پتا نہیں ہے میں تیرگی کا تضاد ہوں اور ضمیر مجرم کا خواب ہوں انیس ناگی

ضمیر کے مجرم کا خواب نظم Read More »

نظم میں سرد مہر زندگی سے کیا طلب کروں

نظم میں سرد مہر زندگی سے کیا طلب کروں طلب تو ایک بحر ہے زندگی تو سانس کی لپکتی ایک لہر ہے جو آ کے پھر گزر گئی چند سال اس کے نقش پا یہیں کہیں کسی کے ذہن میں رہے میں دیکھتا ہوں شاخ عمر زرد موسموں کی دھوپ میں اسی خیال خام میں

نظم میں سرد مہر زندگی سے کیا طلب کروں Read More »

اک نظم

اک نظم میں حیات مہمل کی جستجو میں سفر زمانے کا کر چکا ہوں میں اک جواری کی طرح ساری بساط اپنی لٹا چکا ہوں میں آدمی کے عظیم خوابوں کی سلطنت بھی گنوا چکا ہوں نہ جیب رخت سفر کا تحفہ لیے ہوئے ہے نہ ذہن میرا کسی تصور کا دکھ اٹھانے کسی محبت

اک نظم Read More »