MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہیں کہیں کوئی آواز دے رہا تھا مجھے

یہیں کہیں کوئی آواز دے رہا تھا مجھے
چلا تو سات سمندر کا سامنا تھا مجھے

میں اپنی پیاس میں کھویا رہا خبر نہ ہوئی
قدم قدم پہ وہ دریا پکارتا تھا مجھے

زمانے بعد ان آنکھوں میں اک سوال سا تھا
کہ ایک بار پلٹ کر تو دیکھنا تھا مجھے

یہ پاؤں رک گئے کیوں بے نشان منزل پر
یہاں سے اک نیا رستہ نکالنا تھا مجھے

یہ زندگی جو ترے نام سے عبارت تھی
اسے کچھ اور بنانا سنوارنا تھا مجھے

رفیق گردش سیارگاں سے پوچھوں گا
وہ کون تھا جو خلاؤں میں ڈھونڈتا تھا مجھے

تمام ترک مراسم کے باوجود اشفاقؔ
وہ زیر لب ہی سہی گنگنا رہا تھا مجھے

اشفاق حسین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم