MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اس کی جدائی کیسے کمالات کر گئی

اس کی جدائی کیسے کمالات کر گئیوہ خواب بن کے مجھ سے ملاقات کر گئی دیکھا اسے جو میں نے تو کچھ بھی نہ سن سکاکیا بات کر رہی تھی وہ کیا بات کر گئی نادیدہ منزلوں کے لیے راستوں کی دھولجب کہکشاں بنی تو کرامات کر گئی راتوں سے چھین کر وہ چراغوں کی […]

اس کی جدائی کیسے کمالات کر گئی Read More »

جو زندگی بچی ہے اسے خار کیا کریں

جو زندگی بچی ہے اسے خار کیا کریںہم بھی تمہارے ہوتے مگر یار کیا کریں ہیں بند سب دکانیں کہ بازار عشق میںملتا نہیں ہے ہم سا خریدار کیا کریں لڑتے رہے ہوا سے جلاتے رہے چراغاب اور روشنی کے طلب گار کیا کریں احباب چل دیے ترے دربار کی طرفاور ہم کہ آ گئے

جو زندگی بچی ہے اسے خار کیا کریں Read More »

نکلی وہ زندگی سے تو پامال ہو گیا

نکلی وہ زندگی سے تو پامال ہو گیاجیسے رواں رواں مرا کنگال ہو گیا بگڑا ہوا ہے ہجر میں کچھ وقت کا نظاملمحہ گزر نہ پایا کہ اک سال ہو گیا مشکل ہے یہ حساب کئی ہجرتوں کے بعداچھا ہے میرا حال کہ بد حال ہو گیا بس یوں ہی اک غزل سی اسے دیکھ

نکلی وہ زندگی سے تو پامال ہو گیا Read More »

تھیں زمینیں گم شدہ اور آسماں ملتا نہ تھا

تھیں زمینیں گم شدہ اور آسماں ملتا نہ تھاسر پہ سورج تھا مرے پر سائباں ملتا نہ تھا بے نتیجہ ہی رہی ہے ہر سفر کی جستجوڈھونڈنے نکلے تھے جس کو وہ جہاں ملتا نہ تھا منزلیں آسان تھیں اور راستے مخدوش تھےکشتیاں موجود تھیں پر بادباں ملتا نہ تھا گھونسلے خالی پڑے ہیں اور

تھیں زمینیں گم شدہ اور آسماں ملتا نہ تھا Read More »

ان سے ملا تو پھر میں کسی کا نہیں رہا

ان سے ملا تو پھر میں کسی کا نہیں رہااور جب بچھڑ گیا تو خود اپنا نہیں رہا دیوار ٹوٹنے کا عجب سلسلہ چلاسایوں کے سر پہ اب کوئی سایہ نہیں رہا ہر اک مکاں سے نام کی تختی اتر گئیدل کی فصیل پہ کوئی پہرہ نہیں رہا رہبر بدل گئے کبھی رہزن بدل گئےاور

ان سے ملا تو پھر میں کسی کا نہیں رہا Read More »

جدائی کے الم سہنا، مجھے اچھا نہیں لگتا

جدائی کے الم سہنا، مجھے اچھا نہیں لگتا کسی کو الوداع کہنا، مجھے اچھا نہیں لگتا محبت کے مراحل ہوں یا میدانِ عداوت ہو کبھی جذبات میں بہنا، مجھے اچھا نہیں لگتا وہ اتنا خوبصورت ہے کہ اُس کے جسم پر سج کر کوئی زیور، کوئی گہنا، مجھے اچھا نہیں لگتا سنو منظور ہیں اب

جدائی کے الم سہنا، مجھے اچھا نہیں لگتا Read More »

سچ زبانوں پر ہو تو شانوں پہ سر رہتے نہیں

سچ زبانوں پر ہو تو شانوں پہ سر رہتے نہیں پتھروں کے شہر میں شیشے کے گھر رہتے نہیں چھوڑ کر مجھ کو چلا ہے تو پتا ہو گا اُسے ریگ زاروں میں کبھی نازک شجر رہتے نہیں چند لمحوں کے لیے ملنا ہے بس ان کا نصیب دیر تک شب اور سورج ہم سفر

سچ زبانوں پر ہو تو شانوں پہ سر رہتے نہیں Read More »

حریمِ ذات کی ہر رت منائے میرے لیے

حریمِ ذات کی ہر رت منائے میرے لیے وہ روئے میرے لیے، مسکرائے میرے لیے زمانہ اس کو ہمیشہ لگائے زخم پہ زخم زمانہ اس کو ہمیشہ ستائے میرے لیے میں شہر چھوڑ کے جانے کی جب بھی بات کروں وہ ہاتھ جوڑ کے مجھ کو منائے میرے لیے اسے کہو ہے محبت میں شرک

حریمِ ذات کی ہر رت منائے میرے لیے Read More »

چلو پچھلے سفر کے تلخ منظر بھول جاتے ہیں

چلو پچھلے سفر کے تلخ منظر بھول جاتے ہیں جزیرے یاد رکھتے ہیں، سمندر بھول جاتے ہیں چلو اس کے لیے کرتے ہیں سارے راستے روشن اندھیرے کس قدر ہیں اپنے اندر، بھول جاتے ہیں انا، پندار، دنیاوی مراتب، ذات اور نسلیں ہر اک پہچان اپنی، اس کے در پر بھول جاتے ہیں محبت کی

چلو پچھلے سفر کے تلخ منظر بھول جاتے ہیں Read More »

اُس سے مل کر بھی جدائی کے الم قائم رہے

اُس سے مل کر بھی جدائی کے الم قائم رہے کعبہِ جاں میں کئی جھوٹے صنم قائم رہے آنے والے موسموں میں اس طرح رہنا اے دوست جانے والے موسموں کا بھی بھرم قائم رہے آندھیاں کیا کیا چلیں، صحرائے جاں کی ریت پر اک مسافر کے مگر نقشِ قدم قائم رہے اُس کی یادیں

اُس سے مل کر بھی جدائی کے الم قائم رہے Read More »