MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ان سے ملا تو پھر میں کسی کا نہیں رہا

ان سے ملا تو پھر میں کسی کا نہیں رہا
اور جب بچھڑ گیا تو خود اپنا نہیں رہا

دیوار ٹوٹنے کا عجب سلسلہ چلا
سایوں کے سر پہ اب کوئی سایہ نہیں رہا

ہر اک مکاں سے نام کی تختی اتر گئی
دل کی فصیل پہ کوئی پہرہ نہیں رہا

رہبر بدل گئے کبھی رہزن بدل گئے
اور ہم سفر بھی کوئی پرانا نہیں رہا

اب اس کے حسن میں وہ کرشمے نہیں رہے
تالی تو بج رہی ہے تماشہ نہیں رہا

شاید پڑوس میں کہیں بجلی گری ہے آج
دیکھو ہمارے گھر میں اندھیرا نہیں رہا

دیمک لگی ہوئی ہے صلیبوں پہ شاد اب
رسم جنوں نباہنے والا نہیں رہا

اشرف شاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم