MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تھیں زمینیں گم شدہ اور آسماں ملتا نہ تھا

تھیں زمینیں گم شدہ اور آسماں ملتا نہ تھا
سر پہ سورج تھا مرے پر سائباں ملتا نہ تھا

بے نتیجہ ہی رہی ہے ہر سفر کی جستجو
ڈھونڈنے نکلے تھے جس کو وہ جہاں ملتا نہ تھا

منزلیں آسان تھیں اور راستے مخدوش تھے
کشتیاں موجود تھیں پر بادباں ملتا نہ تھا

گھونسلے خالی پڑے ہیں اور وہیں پر آس پاس
کچھ پرندے تھے کہ جن کو آشیاں ملتا نہ تھا

گردش دوراں مجھے پھر اب وہیں لے آئی ہے
شہر جو میرا تھا لیکن ہم زباں ملتا نہ تھا

اشرف شاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم