MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کڑے سفر کی ہر اک فکر ٹال دیتا ہے

کڑے سفر کی ہر اک فکر ٹال دیتا ہے وہ لطف ایسا جدائی میں ڈال دیتا ہے ہزار رنگ بدلتا ہے صبح ہونے تک کبھی خوشی، کبھی رنج و ملال دیتا ہے وہ بولتا ہے تو صدیوں پرانے لفظوں کو نئے معانی ، نئے خد و خال دیتا ہے نئی ہے طرزِ عنایت کہ اب […]

کڑے سفر کی ہر اک فکر ٹال دیتا ہے Read More »

اس انتہائے قرب کی منزل ملال ہے

اس انتہائے قرب کی منزل ملال ہے اے دوست ہر عروج کو آخر زوال ہے میں بھی تو اپنے آپ سے مصروفِ جنگ تھا مجھ سے مرا سلوک مرے حسبِ حال ہے بچھڑے ہیں اس خلوص سے دونوں کہ شہر میں اب ترکِ دوستی بھی ہماری مثال ہے قاتل ہے سب کی آنکھ کا تارا

اس انتہائے قرب کی منزل ملال ہے Read More »

مہرباں اچھا لگا، نا مہرباں اچھا لگا

مہرباں اچھا لگا، نا مہرباں اچھا لگا مجھ کو وہ ہر رنگ میں ہی بے گماں اچھا لگا فکر چارہ گر کی اک گمبھیر سی اچھی لگی درد اک سینے میں بے نام و نشاں اچھا لگا زندگی کیا تھی، مسلسل ریگ زاروں کا سفر جانے کیوں پھر بھی مجھے یہ امتحاں اچھا لگا اُس

مہرباں اچھا لگا، نا مہرباں اچھا لگا Read More »

نا روا تھا، نا مناسب تھا، مگر اچھا لگا

نا روا تھا، نا مناسب تھا، مگر اچھا لگا بے وفا اِک، دشمنوں کی پشت پر اچھا لگا وہ اچانک لوٹ آیا توڑ کر رسمِ فراق گرمیوں میں سرد موسم کا ثمر اچھا لگا لگ گئی شاید مجھے آوارگی کی بد دعا لوٹ کر اب کے میں آیا ہوں تو گھر اچھا لگا ہر کسی

نا روا تھا، نا مناسب تھا، مگر اچھا لگا Read More »

وہ حرف و نقش سے خالی کتاب مانگتا ہے

وہ حرف و نقش سے خالی کتاب مانگتا ہے سوال کرتا نہیں ہے، جواب مانگتا ہے میں سارا سال ہی رکھتا ہوں اپنے زخم ہرے وہ سارا سال ہی تازہ گلاب مانگتا ہے میں ریزہ ریزہ اسے ٹوٹ کر دکھاتا ہوں وہ لمحے لمحے کا مجھ سے حساب مانگتا ہے سنا ہے اس کی محبت

وہ حرف و نقش سے خالی کتاب مانگتا ہے Read More »

درونِ حرف اذیت بولتی ہے

درونِ حرف اذیت بولتی ہےستم زد کی مصیبت بولتی ہے میں جادوگر نہیں پر میرے اندرسخن ور سی طبیعت بولتی ہے سکھائے کوئی تو آدابِ محفلیہ چشمِ نم سے رفعت بولتی ہے چراغِ شب بجھا دو میرے بچولگے دستر پہ غربت بولتی ہے فقط پھولوں ہی سے رونق نہیں ہےیہ اک تتلی سے نکہت بولتی

درونِ حرف اذیت بولتی ہے Read More »

ِحرارت یہ جذبوں پہ طاری رہے-

حرارت یہ جذبوں پہ طاری رہےمحبت کا تہوار جاری ر ملاقات ہوتی رہے بے بہاسدا عید میری تمہاری رہے کریں شکر ہم ساتھ مل کر ادامحبت کا فیضان جاری رہے صحیفہ محبت کا پڑھتے رہیںنظر میں ہمیشہ خماری رہے دلِ مضطرب کو دلاسے سہیمگر عشق کی ضرب کاری رہے گلستاں ہمارا یہ مہکے سدابہاروں کی

ِحرارت یہ جذبوں پہ طاری رہے- Read More »

شاخچوں سے بور اترا دیکھیے

شاخچوں سے بور اترا دیکھیےپھر خزاں یابی کا رستہ دیکھیے داد دیجے جراْتوں کی بعد میںپہلے مجھ کو آبلہ پا دیکھیے ہے ریاضی کے اصولوں سے وراگفتگو ان کی وہ لہجہ دیکھیے دیکھیے اس نیل چہرے کی طرفمندمل گھاؤ نہ بے جا دیکھیے ربط ٹوٹا گفتگو میں بار ہااضطرابی حال میرا دیکھیے چھوڑیے باتیں سبھی

شاخچوں سے بور اترا دیکھیے Read More »

جانبِ مصطفیﷺ ہیں نوائیں مری

جانبِ مصطفیﷺ ہیں نوائیں مریاور اُن ﷺ کی گلی میں صدائیں مری وہﷺ تو مختار ہیں سب کے غم خوار ہیںاُنﷺ سے ٹلتی ہیں ساری بلائیں مری فیض ملتا رہے اُن کے در سے سداپوری ہوتی رہیں کُل دعائیں مری اذن سرکارﷺ ہو دید سرکارﷺ ہویہ نگاہیں کبھی نور پائیں مری ورد جاری رہے اور

جانبِ مصطفیﷺ ہیں نوائیں مری Read More »

فکر جھلساتی مجسم آگ ہے

فکر جھلساتی مجسم آگ ہےیہ محبت ہے کہ پیہم آگ ہے چڑھ گیا منصور ہنس کر دار پراور کہا اس نے یہ سرگم آگ ہے ہم نے دریا برد کی خاکِ جنوںسچ کہا تو نے کہ یہ غم آگ ہے جل گیا جب طور موسی نے کہااے خدا! تیرا یہ مرہم آگ ہے؟ کیا بیگاژے

فکر جھلساتی مجسم آگ ہے Read More »