MOJ E SUKHAN

کرتے تو ہو اس کو نظر انداز عزیزو

کرتے تو ہو اس کو نظر انداز عزیزو
یاد آئے گا اِک روز تمہیں نازؔ عزیزو

دبتی ہے کہاں عشق کی آواز عزیزو
سولی پہ بھی ہے نغمہ سرا نازؔ عزیزو

کیا چیز تھی وہ چشمِ فسوں ساز عزیزو
آیا کبھی اپنے میں نہ پھر نازؔ عزیزو

دیوارِ خموشی میں کوئی در تو کُھلا ہے
جیسی بھی ہے گونجی تو ہے آواز عزیزو

آجائے گی خود طاقتِ پرواز پروں میں
پیدا تو کرو جراتِ پرواز عزیزو

موت اس لیے ہے میرے تعاقب میں ازل سے
جینے کے سکھاتا ہوں میں انداز عزیزو


نازؔ خیالوی​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم