MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

محنت سے مرے ہاتھ پہ چھالے ہی رہے ہیں

محنت سے مرے ہاتھ پہ چھالے ہی رہے ہیں
قسمت میں مگر خشک نوالے ہی رہے ہیں

اِک آدھ مکاں روز یہاں جلتا رہا ہے
اس شہر کی گلیوں میں اجالے ہی رہے ہیں

مخلص کوئی ایسا ہے، نہ مفلس کو اتنا
ہر رنگ میں ہم سب سے نرالے ہی رہے ہیں

کیا بات ہے ہر دور میں کیوں تیرے کرم سے
محروم ترے چاہنے والے ہی رہے ہیں​

نازؔ خیالوی​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم