رخصت رقص بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی ہے
رخصت رقص بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی ہےسر منظر مگر اک بولتی تصویر بھی ہے میرے شانوں پہ فرشتوں کا بھی ہے بار گراںاور مرے سامنے اک ملبے کی تعمیر بھی ہے زائچہ اپنا جو دیکھا ہے تو سر یاد آیاجیسے ان ہاتھوں پہ کندہ کوئی تقدیر بھی ہے خواہشیں خون میں اتری ہیں […]
رخصت رقص بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی ہے Read More »