MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

رخصت رقص بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی ہے

رخصت رقص بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی ہےسر منظر مگر اک بولتی تصویر بھی ہے میرے شانوں پہ فرشتوں کا بھی ہے بار گراںاور مرے سامنے اک ملبے کی تعمیر بھی ہے زائچہ اپنا جو دیکھا ہے تو سر یاد آیاجیسے ان ہاتھوں پہ کندہ کوئی تقدیر بھی ہے خواہشیں خون میں اتری ہیں […]

رخصت رقص بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی ہے Read More »

شکاری رات بھر بیٹھے رہے اونچی مچانوں پر

شکاری رات بھر بیٹھے رہے اونچی مچانوں پرمسافر پھر بھی لوٹ آنے کو جا پہنچے ٹھکانوں پر کسی نے جھانک کر دیکھا نہ باہر ہی کوئی آیاہوا نے عمر بھر کیا کیا نہ دستک دی مکانوں پر خود اپنا عکس رخ ہے جو کسی کو روک لے بڑھ کروگرنہ آدمی کب مستقل ٹھہرا چٹانوں پر

شکاری رات بھر بیٹھے رہے اونچی مچانوں پر Read More »

تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری

تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میریوہ شہر کیا ہوا جس کی تھی ہر گلی میری میں اپنی ذات کی تشریح کرتا پھرتا تھانہ جانے پھر کہاں آواز کھو گئی میری یہ سرگزشت زمانہ یہ داستان حیاتادھوری بات میں بھی رہ گئی کمی میری ہوائے کوہ ندا اک ذرا ٹھہر کہ ابھیزمانہ غور سے سنتا

تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری Read More »

تھا ایک سایہ سا پیچھے پیچھے جو مڑ کے دیکھا تو کچھ نہیں تھا

تھا ایک سایہ سا پیچھے پیچھے جو مڑ کے دیکھا تو کچھ نہیں تھااب اپنی صورت کو دیکھتا ہوں کبھی جو صد پیکر آفریں تھا وہ پھر بھی جاں سے عزیز تر تھا طبیعتیں گو جدا جدا تھیںاگرچہ ہم زاد بھی نہیں تھا وہ میرا ہم شکل بھی نہیں تھا میں رک سکوں گا ٹھہر

تھا ایک سایہ سا پیچھے پیچھے جو مڑ کے دیکھا تو کچھ نہیں تھا Read More »

طوفان ابر و باد سے ہر سو نمی بھی ہے

طوفان ابر و باد سے ہر سو نمی بھی ہےپیڑوں کے ٹوٹنے کا سماں دیدنی بھی ہے ارزاں ہے اپنے شہر میں پانی کی طرح خوںورنہ وفا کا خون بڑا قیمتی بھی ہے یارو شگفت گل کی صدا پر چلے چلودشت جنوں کے موڑ پہ کچھ روشنی بھی ہے ٹوٹے ہوئے مکاں ہیں مگر چاند

طوفان ابر و باد سے ہر سو نمی بھی ہے Read More »

وہ رنگ تمنا ہے کہ صد رنگ ہوا ہوں

وہ رنگ تمنا ہے کہ صد رنگ ہوا ہوںدیکھو تو نظر ہوں جو نہ دیکھو تو صدا ہوں یا اتنا سبک تھا کہ ہوا لے اڑی مجھ کویا اتنا گراں ہوں کہ سر راہ پڑا ہوں چہرے پہ اجالا تھا گریباں میں سحر تھیوہ شخص عجب تھا جسے رستے میں ملا ہوں کب دھوپ چلی

وہ رنگ تمنا ہے کہ صد رنگ ہوا ہوں Read More »

وہ رتجگاتھا کہ افسون خواب طاری تھا

وہ رتجگاتھا کہ افسون خواب طاری تھادیئے کی لو پہ ستاروں کا رقص جاری تھا میں اس کو دیکھتا تھا دم بخود تھا حیراں تھاکسے خبر وہ کڑا وقت کتنا بھاری تھا گزرتے وقت نے کیا کیا نہ چارہ سازی کیوگرنہ زخم جو اس نے دیا تھا کاری تھا دیار جاں میں بڑی دیر میں

وہ رتجگاتھا کہ افسون خواب طاری تھا Read More »

یک بیک موسم کی تبدیلی قیامت ڈھا گئی

یک بیک موسم کی تبدیلی قیامت ڈھا گئیرک کے سستانا تھا جب مجھ کو کڑی دھوپ آ گئی دن ڈھلے کس کو ہے تجدید سفر کا حوصلہآتی جاتی رہ گزر ناحق مجھے بہکا گئی بوئے گل موج ہوا ہے اور ہوا کیوں کر رکےاب کے مٹی ہی کی خوشبو میرا گھر مہکا گئی وہ ہوائیں

یک بیک موسم کی تبدیلی قیامت ڈھا گئی Read More »

زمین پر ہی رہے آسماں کے ہوتے ہوئے

زمین پر ہی رہے آسماں کے ہوتے ہوئےکہیں نہ گھر سے گئے کارواں کے ہوتے ہوئے میں کس کا نام نہ لوں اور نام لوں کس کاہزاروں پھول کھلے تھے خزاں کے ہوتے ہوئے بدن کہ جیسے ہواؤں کی زد میں کوئی چراغیہ اپنا حال تھا اک مہرباں کے ہوتے ہوئے ہمیں خبر ہے کوئی

زمین پر ہی رہے آسماں کے ہوتے ہوئے Read More »

روزنِ تقدیر قسط نمبر 24

قسط_نمبر_24 #از_قلم__شیخزادی #روزن_تقدیر#episode_24 #rozan_e_taqdeer +++++++++ عیان اپنے کمرے میں آگیا تھا لیکن اب اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا اس نے سنبل سے بہت روڈ بات کی تھی اسے شرمندگی محسوس ہورہی تھیسوچ کے تسلسل کو جھٹک کر وہ فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔۔فریش ہوکر وہ سیدھا اپنی اسٹڈی میں جانے لگا بال گیلے سفید

روزنِ تقدیر قسط نمبر 24 Read More »