MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ

ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھکتنے الجھاؤ ہیں زنجیر روایات کے ساتھ کون دیکھے گا یہاں دن کے اجالوں کا ستمیہ ستارے تو چلے جائیں گے سب رات کے ساتھ جانے کس موڑ پہ منزل کا پتہ بھول گئےہم کہ چلتے ہی رہے گردش حالات کے ساتھ وقت کرتا ہے بھلا کس سے […]

ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ Read More »

زمانہ اف یہ کیسا ہو رہا ہے

زمانہ اف یہ کیسا ہو رہا ہےجو سیدھا تھا وہ الٹا ہو رہا ہے اب اہل علم میں تاریکیاں ہیںجہالت میں سویرا ہو رہا ہے وہاں پر زندگی کیسے بچے گیجہاں قاتل مسیحا ہو رہا ہے بشر کا مقصد تخلیق دیکھواسے ہونا تھا کیا کیا ہو رہا ہے یہ ہے تقلید مغرب کا نتیجہجدا مسلم

زمانہ اف یہ کیسا ہو رہا ہے Read More »

درد دل کی دوا ہے ماہ نو

درد دل کی دوا ہے ماہ نوآسماں پر کھلا ہے ماہ نو میری ہی طرح تیرا بھی ان سےکیا کوئی واسطہ ہے ماہ نو ان کا چہرہ دکھائی دیتا ہےکیا کوئی آئنہ ہے ماہ نو مسکراتا ہے دیکھ کر ہم کوجیسے سب جانتا ہے ماہ نو دن کو سوتا ہے وہ نہ جانے کہاںرات کو

درد دل کی دوا ہے ماہ نو Read More »

بے گھر تھا پھر چھوڑ گیا گھر جانے کیوں

بے گھر تھا پھر چھوڑ گیا گھر جانے کیوںپار کیا ہے سات سمندر جانے کیوں آنکھیں حیراں دل ویراں ہیں چہرے زردچیخ رہا ہے منظر منظر جانے کیوں آنکھوں میں مظلوموں کے بس آنسو ہیںفکر میں ہے ہر ایک ستم گر جانے کیوں تپتی ریت جھلستے سائے تند ہواگھر سے نکلا موم کا پیکر جانے

بے گھر تھا پھر چھوڑ گیا گھر جانے کیوں Read More »

آئے ہیں سمجھانے لوگ

آئے ہیں سمجھانے لوگغم سے ہیں انجانے لوگ وہ جو روٹھے ہیں تو لگے ہیںدل میرا تڑپانے لوگ کیوں چھوڑا ہے اپنوں نےپوچھتے ہیں بیگانے لوگ اہل جنوں سے ناواقفبنتے ہیں فرزانے لوگ ان کی نظر جو اٹھتی انورؔکیوں جاتے میخانے لوگ انور جمال انور

آئے ہیں سمجھانے لوگ Read More »

چڑھتے طوفان کو ساحل سے گزرنا تھا میاں

چڑھتے طوفان کو ساحل سے گزرنا تھا میاںریت کے گھر کو بہرحال بکھرنا تھا میاں کب تلک پاؤں کو توڑے ہوئے بیٹھا رہتاراہ دشوار سے رہرو کو گزرنا تھا میاں اتنے مانوس تھے صیاد سے جاتے نہ کہیںقید میں پر نہ پرندوں کے کترنا تھا میاں جب نہ سمجھے تو پھر اب چھیڑ کے پچھتانا

چڑھتے طوفان کو ساحل سے گزرنا تھا میاں Read More »

رات کا کیا ذکر ہے شام و سحر آیا نہیں

رات کا کیا ذکر ہے شام و سحر آیا نہیںکون سا الزام ہے جو میرے سر آیا نہیں یوں تو راہ بے خطر میں رہنما ملتے رہےپر خطر راہوں میں کوئی راہبر آیا نہیں کون جانے کس کے ڈر سے آج پھر میرا رفیقچاہتا تھا میرے گھر آنا مگر آیا نہیں اس قدر قربت بڑھی

رات کا کیا ذکر ہے شام و سحر آیا نہیں Read More »

زندگی اپنی خواب جیسی ہے

زندگی اپنی خواب جیسی ہےخوب رو بے نقاب جیسی ہے صحن گلشن میں آپ کی ہستیشاخ پر ایک گلاب جیسی ہے کبھی ڈوبی ہے اور کبھی ابھریعاشقی بھی حباب جیسی ہے ہوش میں رہ کے بھی ہے بے ہوشیزیست اپنی شراب جیسی ہے ان کی شوخی تو ہے بہار چمنسادگی محو خواب جیسی ہے ہے

زندگی اپنی خواب جیسی ہے Read More »

ہر جگہ پانچ , دس , میسر ہیں

ہر جگہ پانچ , دس , میسر ہیںلوگ , اہلِ ہوس میسر ہیں بس میسر نہیں تری قربتدن , مہینے , برس , میسر ہیں روح سے روح مل نہیں پاتیہونٹ سے ہونٹ بس میسر ہیں میکدے کی طرف نہیں جاتےجن کو آنکھوں کے رس میسر ہیں کون سوچے بھلا رہائی کاآرزو کے قفس میسر

ہر جگہ پانچ , دس , میسر ہیں Read More »

میں نے یوں دیکھا اسے جیسے کبھی دیکھا نہ تھا

میں نے یوں دیکھا اسے جیسے کبھی دیکھا نہ تھااور جب دیکھا تو آنکھوں پر یقیں آتا نہ تھا بام و در سے سخت بارش میں بھی اٹھے گا دھواںیوں بھی ہوتا ہے محبت میں کبھی سوچا نہ تھا آندھیوں کو روزن زنداں سے ہم دیکھا کئےدور تک پھیلا ہوا صحرا تھا نقش پا نہ

میں نے یوں دیکھا اسے جیسے کبھی دیکھا نہ تھا Read More »