ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ
ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھکتنے الجھاؤ ہیں زنجیر روایات کے ساتھ کون دیکھے گا یہاں دن کے اجالوں کا ستمیہ ستارے تو چلے جائیں گے سب رات کے ساتھ جانے کس موڑ پہ منزل کا پتہ بھول گئےہم کہ چلتے ہی رہے گردش حالات کے ساتھ وقت کرتا ہے بھلا کس سے […]
ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ Read More »