MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شکاری رات بھر بیٹھے رہے اونچی مچانوں پر

شکاری رات بھر بیٹھے رہے اونچی مچانوں پر
مسافر پھر بھی لوٹ آنے کو جا پہنچے ٹھکانوں پر

کسی نے جھانک کر دیکھا نہ باہر ہی کوئی آیا
ہوا نے عمر بھر کیا کیا نہ دستک دی مکانوں پر

خود اپنا عکس رخ ہے جو کسی کو روک لے بڑھ کر
وگرنہ آدمی کب مستقل ٹھہرا چٹانوں پر

اٹھائے آسماں کے دکھ بھی کس میں اتنی ہمت ہے
زمیں ہی ایک بھاری ہے ہمیں تو اپنی جانوں پر

دریچوں نے یہ منظر آج پہلی بار دیکھا ہے
کہ تم جانے کہاں تھے اور سورج تھا مکانوں پر

گھروں سے جب نکل آئے تو سب نے راہ لی اپنی
مگر دنیا کی نظریں ہیں پرندوں کی اڑانوں پر

ہوا یوں ہی تو ہم کو لے کے پیڑوں تک نہیں آئی
ہمارا نام تھا لکھا ہوا گندم کے دانوں پر

یہ مانا آندھیوں کا حق ہے سب پر یورشیں کرنا
مگر یہ میں کہ میری آنکھ ہے خستہ مکانوں پر

کچھ اتنے ہو گئے مانوس سناٹوں سے ہم اخترؔ
گزرتی ہے گراں اپنی صدا بھی اب تو کانوں پر

اختر ہوشیار پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم