MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آئنہ ، ماہتاب ہو نہ سکا

آئنہ ، ماہتاب ہو نہ سکا حسن کیوں لاجواب ہو نہ سکا؟ ایسا غصہ تھا اس کے لہجے میں پھول بھی کامیاب ہو نہ سکا میں بھی یوسف مزاج تھا لیکن بس کنواں دستیاب ہو نہ سکا دکھ میسر بھی تھا ۔۔۔نہیں بھی تھا اس لیے بھی حساب ہو نہ سکا میں بھی آدھے سفر […]

آئنہ ، ماہتاب ہو نہ سکا Read More »

بھٹکتی آرزو کے جسم کی تم کھال میں خوش ہو

بھٹکتی آرزو کے جسم کی تم کھال میں خوش ہو عجب دیدہ دلیری ہے ، سنہرے جال میں خوش ہو اگرچہ ڈر تھا ہم بچھڑے تو مر سکتے ہیں , لیکن اب میں اپنے حال میں خوش ہوں تم اپنے حال میں خوش ہو یہ جس موسیقیت کے زرد موسم سے جڑے ہیں گیت پرندو

بھٹکتی آرزو کے جسم کی تم کھال میں خوش ہو Read More »

خالی سینے کی کھنک سے تو نہیں مل سکتی

خالی سینے کی کھنک سے تو نہیں مل سکتی چیخ کی رمز چہک سے تو نہیں مل سکتی سرخروئی کو تو درکار ہے کامل کالک یہ فقط دن کی دمک سے تو نہیں مل سکتی زندگی ! دھول میں گم ٹیڑھی مسافت کی مثال شہر کی پختہ سڑک سے تو نہیں مل سکتی زہر کو

خالی سینے کی کھنک سے تو نہیں مل سکتی Read More »

ہوا کے سامنے شکوے نہیں سنا میرے

ہوا کے سامنے شکوے نہیں سنا میرے ترے تو گھر کے دیے بھی ہیں مبتلا میرے کہاں گئے سبھی یارانِ باوفا میرے کوئی نہیں سرِ مقتل بھی اب سوا میرے مجھ ایسا شخص بگڑنے میں طاق ہوتا ہے یہ رکھ رکھاؤ یہ نخرے نہ تُو اٹھا میرے عذاب اٹھاتا ہوں خود ساختہ اداسی کا گلے

ہوا کے سامنے شکوے نہیں سنا میرے Read More »

اچھے اچھوں کے بھی کردار تلک آئے گی

اچھے اچھوں کے بھی کردار تلک آئے گی بات جب درہم و دینار تلک آئے گی تری دنیا تری خوش نام یہ اچھی دنیا آتے آتے مرے معیار تلک آئے گی سوکھتی بیل پہ اک پھول کی تنہائی ہے روز چڑیا مری دیوار تلک آئے گی ایک بیماری جسے عشق کہا جاتا ہے گھوم پھر

اچھے اچھوں کے بھی کردار تلک آئے گی Read More »

درد ایسا ہے کہ ہر سانس پریشانی ہے

درد ایسا ہے کہ ہر سانس پریشانی ہے عشق یہ عشق نہیں ذہن کی نادانی ہے پھول ایجاد ہوا بھی تو بدن کی خاطر ورنہ خوشبو کی نجاست سے گریزانی ہے آئنہ اس لیے تمثال نہیں ہو سکتا میرے چہرے پہ کسی آنکھ کی حیرانی ہے وہ تو روزن سے کوئی چاند بلاتا ہے مجھے

درد ایسا ہے کہ ہر سانس پریشانی ہے Read More »

وہ دُھن میں تھا کہ اُسے آفتاب ہونا تھا

وہ دُھن میں تھا کہ اُسے آفتاب ہونا تھا ہماری نیند کا خانہ خراب ہونا تھا زمیں پہ آتے ہی غربت نے آ لیا مجھ کو وگرنہ میں نے یہاں کا نواب ہونا تھا تجھے ہی شوق تھا کھڑکی میں بیٹھ رہنے کا مرے دیے نے ابھی ماہتاب ہونا تھا کسی اُداس نے ہنسنے کا

وہ دُھن میں تھا کہ اُسے آفتاب ہونا تھا Read More »

سیڑھیوں سے اُتر گئے ہیں کیا

سیڑھیوں سے اُتر گئے ہیں کیا مان کر بھی مکر گئے ہیں کیا سانپ تو خیر تھے ہی دہشت ناک رسیوں سے بھی ڈر گئے ہیں کیا سانحے , جن کا منتظر تھا دل اچھا ! وہ بھی گزر گئے ہیں کیا آگ ہے آگ اور بجھی ہوئی آگ داستاں گو تھے, مر گئے ہیں

سیڑھیوں سے اُتر گئے ہیں کیا Read More »

ادھورے پن میں مجھے مبتلا کیا ہی نہیں

ادھورے پن میں مجھے مبتلا کیا ہی نہیں کہ عشق نے تو کوئی مسئلہ کیا ہی نہیں پرائے جسم کے انکار کی نمی سے اٹھا وہ ہجر جس نے کبھی رابطہ کیا ہی نہیں حروف اوندھے پڑے ہیں زباں میں لکنت ہے کہ اختتام ابھی ابتدا کیا ہی نہیں یہ بات چیت کی عادت مکیں

ادھورے پن میں مجھے مبتلا کیا ہی نہیں Read More »

ایسی بارش ہے کہ رونے میں سہولت کم ہے

ایسی بارش ہے کہ رونے میں سہولت کم ہے یوں بھی اس چھوڑنے والے کی نحوست کم ہے آئنہ دیکھنے بیٹھوں تو چھلک پڑتا ہوں عشق لاحق ہے مگر آنکھ میں وحشت کم ہے میں جو اس دیپ کو مہتاب سمجھ بیٹھا ہوں ہو نہ ہو نیند کی حالت میں بھی حیرت کم ہے اچھے

ایسی بارش ہے کہ رونے میں سہولت کم ہے Read More »