MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بنتی نہیں کسی بھی طرح اِندمال سے

بنتی نہیں کسی بھی طرح اِندمال سے پہچان ورنہ اپنی پرانی ہے ڈھال سے جوتے چمک اٹھے تو بدن ماند پڑ گئے کیڑے بہت جھڑے تھے اجازت کی کھال سے پہلے جواب نے ہی مجھے سرد کر دیا تکرار یوں تو پھوٹ چکی تھی سوال سے آخر ہمارے تن کو لگا رات کا عذاب ہم […]

بنتی نہیں کسی بھی طرح اِندمال سے Read More »

جو میرے ساتھ تھا اب میرے ساتھ ہے ہی نہیں

Jo Mery Sath tha abh mery sath hay hi nahi غزل جو میرے ساتھ تھا اب میرے ساتھ ہے ہی نہیںسو اپنے آپ سے اب بات وات ہے ہی نہیں پناہ میں رہوں زلفِ سیاہ فام کی میںمرے نصیب میں شاید وہ رات ہے ہی نہیں کسی کو اونچا سمجھنا کسی سے دب جانامرے مزاج

جو میرے ساتھ تھا اب میرے ساتھ ہے ہی نہیں Read More »

بات مت کر تو اس ستم گر کی

Baat mat kar tu us sitmgar ki غزل بات مت کر تو اس ستم گر کیبات کر مجھ سے تو دسمبر کی فیض ملتا نہیں جہاں سے کبھیدھول چاٹے ھے کیوں اسی در کی ہیں خیالات قیمتی لیکنبات کرتا ہے تُو ٹکے بھر کی تجھ کو دیکھا عدو کی بانہوں میںجھوٹی قسمیں نہ کھا مرے

بات مت کر تو اس ستم گر کی Read More »

شہرِ ظلمت کے فرماں روا مان جا

شہرِ ظلمت کے فرماں روا مان جاکَھل رہی ہے گھٹن کی فضا مان جا روزِ محشر تو دے گا بھلا کیا جواباب تو حرص و ہوس کے گدا مان جا لاکھ تو نے اجاڑے ہیں گھر بے سبباب بدلنے لگی ہے ہوا مان جا تیرے کرتوت ہونے لگے وا سو ابسارے جھوٹوں میں اے پارسا

شہرِ ظلمت کے فرماں روا مان جا Read More »

ہاں اپنے آپ کو خود میں چھپا لیتا ہوں میں اکثر

ہاں اپنے آپ کو خود میں چھپا لیتا ہوں میں اکثرزمانے کی ہواؤں سے بچا لیتا ہوں میں اکثر ضمیر و دل کو بھی تنہا بٹھا کر سامنے اپنےانوکھی سی کوئی محفل سجا لیتا ہوں میں اکثر ہاں اپنی آس کی ہر شب اندھیروں میں ڈبونے کودیے اس سوچ کے سارے بجھا لیتا ہوں میں

ہاں اپنے آپ کو خود میں چھپا لیتا ہوں میں اکثر Read More »

میں ترے سامنے آؤں گا چلا جاؤں گا

میں ترے سامنے آؤں گا چلا جاؤں گاپیار کا گیت سناؤں گا چلا جاؤں گا بے خبر سوئے ہوئے ہیں مرے ہمدم ساتھیخواب سے ان کو جگاؤں گا چلا جاؤں گا کوچہء جبر میں اب اور کوئی کام نہیںحق کے نعرے کو لگاؤں گا چلا جاؤں گا ظلم سے مجھ کو نمٹنا ہے کسی بھی

میں ترے سامنے آؤں گا چلا جاؤں گا Read More »

فرشتہ کالا پتھر چومتا تھا

فرشتہ کالا پتھر چومتا تھامیں پتھر دل کو تھامے بس کھڑا تھا مرے دل میں اندھیرے چھا گئے تھےمرے چہرے پہ سورج اگ رہا تھا میں یوسف بن گیا تھا بھائیوں میںمیں ان کی خواہشوں پر بک گیا تھا مرے آقا کے ہاتھوں نے چھوا تھاتبھی فاروق اس کو چومتا تھا مری وہ راکھ کاہے

فرشتہ کالا پتھر چومتا تھا Read More »

اپنے بچوں کے لیے درد کما کر آیا

اپنے بچوں کے لیے درد کما کر آیاسارا دن شہر میں خوں اپنا جلا کر آیا بھوک اجرت میں ملی تھی سو وہی پھانکی ہےاور بچوں کے لیے کچھ میں بچا کر آیا اس نے ہاتھوں میں جزا اور سزا لے لی تھیکیا کروں اس کو ہی پھر اپنا خدا کر آیا میں کسی کا

اپنے بچوں کے لیے درد کما کر آیا Read More »

زندگی با خدا سوال ہے بس

زندگی با خدا سوال ہے بسایک ہی جا بجا سوال ہے بس ایک جانب محل ہیں شاہوں کےاور مقابل مرا سوال ہے بس باپ کے بعد بیٹا یا دامادکون وارث بنا سوال ہے بس دیس خوش حال ہے تو پھر اک شخصبھوک سے کیوں مرا سوال ہے بس ایک تن پر ہے ریشم و اطلسایک

زندگی با خدا سوال ہے بس Read More »

ہم تیری مسکان پہ مرنے والے ہیں

ہم تیری مسکان پہ مرنے والے ہیںیعنی اس امکان پہ مرنے والے ہیں انسانوں سے کرتے ہیں جو پیار بہتوہ تو ہر انسان پہ مرنے والے ہیں جو چاہے اس دل پر تم تحریر کروعشق کے ہم عنوان پہ مرنے والے ہیں چار دنوں سے بھوکے ہیں سو اے صاحببچے اک اک نان پہ مرنے

ہم تیری مسکان پہ مرنے والے ہیں Read More »