MOJ E SUKHAN

ادھورے پن میں مجھے مبتلا کیا ہی نہیں

ادھورے پن میں مجھے مبتلا کیا ہی نہیں
کہ عشق نے تو کوئی مسئلہ کیا ہی نہیں

پرائے جسم کے انکار کی نمی سے اٹھا
وہ ہجر جس نے کبھی رابطہ کیا ہی نہیں

حروف اوندھے پڑے ہیں زباں میں لکنت ہے
کہ اختتام ابھی ابتدا کیا ہی نہیں

یہ بات چیت کی عادت مکیں کو ہوتی ہے
مکاں نے ورنہ گلی سے گلہ کیا ہی نہیں

بندھے بندھائے پڑے ہیں بدن کے پنجرے میں
اجل کی خیر کہ جس نے رہا کیا ہی نہیں

ارشاد نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم