MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دل کے ہر پل رہے قریں کچھ لوگ

دل کے ہر پل رہے قریں کچھ لوگاس طرح کے بھی ہیں حسیں کچھ لوگ عجز میں بھی کمال ہوتے ہیںآسماں ہوکے بھی زمیں کچھ لوگ ساری دنیا ہی چھان ماری ہےبا وفا ہیں کہیں کہیں کچھ لوگ اپنے دل میں ہی ہم سدا رہ لیںدل میں ان جیسے ہوں مکیں کچھ لوگ منفی مثبت […]

دل کے ہر پل رہے قریں کچھ لوگ Read More »

خواب میں آ کے وہ ستانے لگے

خواب میں آ کے وہ ستانے لگےبھولنے میں جنہیں زمانے لگے لوٹنے والے پا گئے منزللٹنے والے سبھی ٹھکانے لگے قربتوں کا جدید ہے اندازدور سے ہاتھ سب ہلانے لگے اپنی مجبوریاں بتائیں جبدوستوں کو مرے بہانے لگے زخم پل بھر میں جو لگا دل پراس کو بھرنے میں پھر زمانے لگے دور روشن خیالی

خواب میں آ کے وہ ستانے لگے Read More »

زمیں زادوں سے لڑنا ہی پڑے گا

زمیں زادوں سے لڑنا ہی پڑے گاقبیلہ تب مرا زندہ رہے گا چٹانیں پھاڑ کر نکلے شجر جووہ طوفانوں سے پھر کیسے ڈرے گا بناؤں کربلا گر کینوس پرلہو رنگوں سے پھر بہنے لگے گا ہوا نے جو سنا نیزے پہ قرآںسنے پتھر تو وہ رونے لگے گا دیا کب آس کا بجھتا ہے لوگویہ

زمیں زادوں سے لڑنا ہی پڑے گا Read More »

کس کو ملی تسکین ساحل کس نے سر منجدھار کیا

کس کو ملی تسکین ساحل کس نے سر منجدھار کیااس طوفان سے گزرے جس نے ندی ندی کو پار کیا اے فرزانو! دیوانوں کے جذبۂ دل کی قدر کروان کی ایک نظر نے آتش آتش کو گل زار کیا رنج محبت رنج زمانہ دونوں ہم سے خائف ہیںہم نے سوچ سمجھ کر دل کو سرگرم

کس کو ملی تسکین ساحل کس نے سر منجدھار کیا Read More »

مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہوا

مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہواوہ بے نیاز تھا اتنا تو کیوں خدا نہ ہوا شکن ہمیشہ جبیں پر رہے تو عادت ہےمجھے یقیں ہے وہ مجھ سے کبھی خفا نہ ہوا تمام عمر تری ہمرہی کا شوق رہامگر یہ رنج کہ میں موجۂ صبا نہ ہوا حجاب حسن سے

مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہوا Read More »

مضمحل ہونے پہ بھی خود کو جواں رکھتے ہیں ہم

مضمحل ہونے پہ بھی خود کو جواں رکھتے ہیں ہمایک سر ہے جس پہ ساتوں آسماں رکھتے ہیں ہم ہم گریباں چاک لوگوں کو تہی دامن نہ جانلے قمار عاشقی میں نقد جاں رکھتے ہیں ہم کوئی تو آخر چلا آئے گا پرسش کے لئےتو نہ آئے گا تو مرگ ناگہاں رکھتے ہیں ہم احترام

مضمحل ہونے پہ بھی خود کو جواں رکھتے ہیں ہم Read More »

شب مہتاب بھی اپنی بھری برسات بھی اپنی

شب مہتاب بھی اپنی بھری برسات بھی اپنیتمہارے دم قدم سے زندگی تھی زندگی اپنی یہاں پابندی، ناراضی، جنونی بات ہے ورنہجمال یار سے کچھ کم نہیں تابندگی اپنی مجھے شادابیٔ صحن چمن سے خوف آتا ہےیہی انداز تھے جب لوٹ گئی تھی زندگی اپنی تمہارا غم اسے آشوب صرصر بچائے گاہواؤں سے بھڑک اٹھی

شب مہتاب بھی اپنی بھری برسات بھی اپنی Read More »

تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی

تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھیمحبت خندۂ بے باک بھی ہے گریۂ غم بھی تھکن تیرے بدن کی عذر کوئی ڈھونڈھ ہی لیتیحدیث محفل شب کہہ رہی ہے زلف برہم بھی بقدر دل یہاں سے شعلۂ جاں سوز ملتا ہےچراغ حسن کی لو شوخ بھی ہے اور مدھم بھی مری تنہائیوں

تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی Read More »

تو اگر غیر ہے نزدیک رگ جاں کیوں ہے

تو اگر غیر ہے نزدیک رگ جاں کیوں ہےنا شناسا ہے تو پھر محرم پنہاں کیوں ہے ہجر کے دور میں ہر دور کو شامل کر لیںاس میں شامل یہی اک عمر گریزاں کیوں ہے آج کی شب تو بجھا رکھے ہیں یادوں کے چراغآج کی شب مری پلکوں پہ چراغاں کیوں ہے اور بھی

تو اگر غیر ہے نزدیک رگ جاں کیوں ہے Read More »

وہ اکثر باتوں باتوں میں اغیار سے پوچھا کرتے ہیں

وہ اکثر باتوں باتوں میں اغیار سے پوچھا کرتے ہیںیہ سر بہ گریباں دیوانے کس شے کا تقاضا کرتے ہیں اک دن تھا کہ ساحل پر بیٹھے طوفاں پہ تبسم کرتے تھےاب مایوسی کے عالم میں ساحل کا تماشا کرتے ہیں خطرہ ہے وفا کے لٹنے کا مجبورئ دل بھی لازم ہےجینے کی تمنا کرتے

وہ اکثر باتوں باتوں میں اغیار سے پوچھا کرتے ہیں Read More »