MOJ E SUKHAN

اپنے بچوں کے لیے درد کما کر آیا

اپنے بچوں کے لیے درد کما کر آیا
سارا دن شہر میں خوں اپنا جلا کر آیا

بھوک اجرت میں ملی تھی سو وہی پھانکی ہے
اور بچوں کے لیے کچھ میں بچا کر آیا

اس نے ہاتھوں میں جزا اور سزا لے لی تھی
کیا کروں اس کو ہی پھر اپنا خدا کر آیا

میں کسی کا بھی تو احسان نہیں لیتا ہوں
اس لیے خود کو میں اب خود سے جدا کر آیا

ڈھونڈنے اس کو گلی میں تو گیا تھا لیکن
اپنی ہستی کو وہاں آج گنوا کر آیا

اس نے نفرت ہی مجھے کرنا سکھائی لوگو
اس لیے میں بھی اسے خوب بڑھا کر آیا

اس خرابے میں تہہِ خاک ہیں ماں باپ مجید
میں یہاں اس لیے سر اپنا جھکا کر آیا

عبدالمجید راجپوت امبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم